Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افریقہ کا سفر

Urdu book, p. 393

By Maulana Wahiduddin Khan

مطابق ایک ہوٹل بنایا گیا ہے۔ اسی ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔ کھانے سے فراغت کے بعد سمندر کے کنارے میں ایک چھتری کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ میرے سامنے ساحل تھا اور ساحل پر مغربی مرد اور عورتیں نیم برہنہ حالت میں تفریح میں مشغول تھے۔ میں نے سوچا کہ مغربی تقسیم کے مطابق سامان حیات کے تین درجے ہیں: ضرورت ، راحت ، تعیش ۔ جدید انقلاب نے مغربی انسان کو موقع دیا کہ وہ ایک کے بعد ایک ان تینوں مراحل سے گزر سکے۔ مگر تعیش کے اعلیٰ مرحلہ پر پہنچنے کے بعد بھی اس کو تسکین نہیں ملی۔ چنانچہ اب مغربی انسان اباحیت کا تجربہ کر رہا ہے ۔ یہ اس کی زندگی کا آخری مرحلہ ہے ، اس کے بعد کوئی اور مرحلہ نہیں۔ اس کے بعد جو مرحلہ ہے وہ صرف مایوسی کا مرحلہ ہے۔ مغربی زندگی میں اس مرحلہ کا آغاز ہو چکا ہے اور وہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ اس طرح اب وہ آخری وقت آگیا ہے جب کہ انسان کو خدا کے سچے دین کا پیغام پہنچایا جائے اور وہ اس کو اپنے اندرونی اضطراب کا جواب پا کر اسے قبول کرلے۔ ۱۱ دسمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز اسلامک سنٹر کی مسجد میں ادا کی۔ یہ سنٹر غالباً مالدیپ کی سب سے زیادہ شاندار عمارت ہے۔ کم از کم صدر مالدیپ کی قیام گاہ سے یقینی طور پر زیادہ شاندار ہے۔ نماز سے فراغت کے بعد جب باہر آئے تو امام کے خطبہ کی فوٹو کاپیاں لوگوں کو تقسیم کی جارہی تھیں ۔ امام اپنا خطبہ عربی اور مالد ہی میں پہلے سے لکھ لیتا ہے، اس کے بعد اس کی فوٹو کاپی تیار کر لی جاتی ہے اور اس کو نماز کے بعد تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایسا ہر جمعہ کو کیا جاتا ہے۔ پہلے دن جب میں مالدیپ میں داخل ہوا تو یہاں کی دنیا مجھ کو بہت پرکشش معلوم ہوئی تھی۔ اٹھگاہ سمندر کے درمیان جگہ جگہ ابھری ہوئی خشکی اور اس کے اوپر ہرے بھرے درخت ، سمندر میں ہر طرف دوڑتی ہوئی کشتیاں، چاروں طرف کھلی ہوئی فضا اور کھلا آسمان ، اس طرح کے مختلف مناظر جو یہاں افراط کے ساتھ موجود ہیں وہ کچھ دیر کے لئے آدمی کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ مگر چند ہی دن کے بعد وہ کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے جس کو آجکل کی زبان میں بورڈم Boredom کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ۱۲ دسمبر ۱۹۸۰ء کو جب میں مالدیپ سے روانہ ہوا تو تمام ابتدائی کشش ختم ہو چکی تھی۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے لامحدود دنیا چاہتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ موجودہ محدود دنیا اس کے لئے مستقل خوشی کا سبب نہیں بنتی۔ ابدی مسرت صرف ان انسانوں کے لئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page