Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 402

By Maulana Wahiduddin Khan

" دو و مان در گھنٹا ؤں میں ۱۶۳ مرے : ٹائینس آف انڈیا (۲۰ اکتوبر) کی پہلی آٹھ کالی سرخی یہ تھی : 164 killed as IA, Vayudoot planes crash یہ ہندوستان کی شہری ہوابازی کی تاریخ میں دوسرا سب سے زیادہ ہولناک حادثہ تھا۔ پہلا شدید تر حادثہ وہ تھا جو ۲۳ جون ۱۹۸۵ کو پیش آیا۔ ایر انڈیا کا ایک جہاز (کنشک) ایک بم کے پھٹنے سے تباہ ہو گیا تھا اور بحر الکاہل میں گر پڑا تھا۔ موجودہ حادثہ دو الگ الگ جہازوں کا تھا مگر وہ ایک ہی دن ہوا۔ ایک احمد آباد میں اور دوسرا گوہاٹی میں۔ دونوں موسم کی خرابی کی بنا پر ہوئے۔ احمد آباد میں تباہ ہونے والا جہاز جب ہوائی اڈہ کے اوپر پہنچا تو وہاں فضا میں سخت کہر کی وجہ سے اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ پائلٹ سطح زمین پر دیکھ نہ سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ٹائینس آف انڈیا کی رپورٹ (۲۰ اکتوبر) کے مطابق جہاز ہوائی اڈہ کے اندر اترنے والی سڑک پر اترنے کے بجائے باہر ایک کھیت میں اتر گیا اور وہاں درختوں سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا : Instead of landing at the airstrip, it crashed into a field in the outskirts of the city. اسی طرح چند دن پہلے اخبار کے صفحہ اول پر ایک تصویر تھی جس میں ایک ٹوٹا ہوا جہاز آگ کے شعلوں کی نذر ہورہا تھا۔ یہ یو گنڈا کی کمپنی (Ugandan Airlines) کی فلائٹ نمبر ۵۷، تھی۔ یہ بوئنگ جہاز لندن سے براستہ روم یوگنڈا جا رہا تھا۔ اس پر عملہ سمیت ۵۲ مسافر سوار تھے۔ ۱۷ اکتوبر ۱۹۸۸ کی شام کو اسے کچھ دیر کے لئے روم کے ہوائی اڈہ پر اترنا تھا۔ اس وقت یہاں شدید کہر چھایا ہوا تھا۔ جہاز کا پائلٹ رن وے کو صاف طور پر دیکھ نہ سکا۔ چنانچہ جہاز ایک پختہ عمارت (Hangar) سے ٹکرا گیا۔ ٹکر آتے ہی جہاز آگ کا ایک گولابن گئ۔ بیشتر لوگ اسی وقت ہلاک ہو گئے ۔ تقریباً ۲۰ آدمی اس حالت میں اسپتال میں پہنچائے گئے کہ ان کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں ۔ اور بدن آگ کے اثر سے جھلسا ہوا تھا۔ زندگی حادثات سے اتنی زیادہ بھری ہوئی ہے کہ آدمی اگر حادثات کو یاد رکھے تو اس کے اعصاب پھٹ جائیں اور پھر وہ کوئی سفر یا دوسرا کوئی استدامی کام کرنے کے قابل نہ رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت ذہن کی وہ صفت ہے جس کو قدیم زمانہ میں فراموشی کہا جاتا تھا ، اور موجودہ زمانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page