Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 415

By Maulana Wahiduddin Khan

شام کو تمام شہر کا روکا بل کے باہر ایک کھلے مقام پر لے جایا گیا ۔ یہاں " شہدای راہ انقلاب" کا بورڈ لگا ہوا تھا ۔ دور تک " اپریل انقلاب " میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قبریں نظر آرہی تھیں۔ یہاں مخصوص فوجی آداب کے ساتھ " شہداء " کو پھول (wreath) چڑھایا گیا۔ میرے لیے یہ منظر نیا تھا۔ مجھے کسی شخص کا یہ قول یاد آیا کہ حکومت کے خلاف مسلح اقدام اگر کامیاب نہ ہو تو وہ بغاوت ہے، اگر کامیاب ہو جائے تو وہ انقلاب ہے۔ ۲۲ اکتوبر کی صبح کو کانفرنس کا افتتاح ہوا۔ ڈاکٹر نجیب (رئیس جمہوریہ افغانستان) اور دوسرے اعلیٰ حکومتی ذمہ دار اسٹیج پر موجود تھے۔ کارروائی کا آغاز ایک نابینا قاری کی تلاوت سے ہوا۔ انھوں نے سورہ احزاب کا وہ حصہ پڑھا جس میں یہ آیت ہے: یخشونہ ولا یخشون الا اللہ ۔ میں نے سوچا کہ اگر بالفرض آج کوئی نئی کتاب اترے اس میں مذکورہ الفاظ ہوں اور ان کو لے کر کوئی شخص ایک ایسے اجتماع میں ان کی تلاوت کرنے لگے جہاں وقت کے حکمران لوگ بیٹھے ہوئے ہوں تو شاید اس کو نکال کر باہر کر دیا جائے گا۔ مگر تارہی اس قسم کی آیت قرآن سے پڑھتا ہے تو کسی کے اندر کوئی جنبش نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ غالبہ یہ ہے کہ نیا پیغمبر اس کو زندہ پیغام کے طور پر پڑھے گا ، اور نابینا قاری اس کو صرف ایک روایتی قرأت کے طور پر اس کا ترجمہ کر رہا ہے۔ ۲۲ اکتوبر کی شام سے مقالات کا سلسلہ شروع ہوا جو ۲۳ اکتوبر کی شام تک جاری رہا۔ میں نے جو مقالہ پیش کیا ، اس کا عنوان یہ تھا : The Prophet of Islam: Benefactor of Humanity یہ مقالہ انشاء اللہ انگریزی الرسلہ میں شائع کر دیا جائے گا۔ ۲۲ اکتوبر کو یہاں کے ٹیلی وژن والوں نے انٹرویو لیا۔ اپنے مرکز کے تعارف کے بعد میں نے دو باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ میرے نزدیک اسلام کا مطلب ہے آخرت اور بینڈ لائف ۔ دوسری بات میں نے وہی کہی جو الرسالہ میں بار بار آتی ہے۔ یعنی تصادم کو اوائڈ کرتے ہوئے ممکن دائرہ عمل میں اپنا کام کرنا۔ اس سلسلہ میں میں نے مزید کہا کہ یہ باتیں میں خاص طور پر افغانستان کے پس منظر میں نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ میرا مستقل پیغام ہے جس کی میں پچھلے ۳۱ سال سے برابر تبلیغ کر رہا ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں غالباً ہندوستان کا اکیلا شخص ہوں جو ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہر جگہ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page