ریاض کا سفر
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
چودہ منزلہ فندق باب البحر کی بالکنی پر کھڑے ہوکر طرابلس کے شہر پر نظر ڈالیں تو وہ خشک عمارتوں کا ایک پتھریلا جنگل معلوم ہوتا ہے۔ نئی دہلی جیسے سبزہ اور درخت کا یہاں کوئی تصور نہیں۔ ہوٹل میں چاروں طرف کثرت سے ہرے بھرے درخت اور پودے نظر آئے۔ ہم سمجھے کہ یہ ہمارے ملک کی طرح واقعی درخت اور پودے ہیں۔ مگر قریب جاکر گہرائی کے ساتھ مشاہدہ کیا تو وہ سب پلاسٹک کے بنے ہوئے تھے۔ مگر ڈنڈی اور پتی اور پھول، ہر چیز میں اتنی کامل مشابہت تھی کہ دور سے کوئی کہہ نہیں سکتا کہ یہ پلاسٹک کے بنے ہوئے ہیں۔ صحرائی ملکوں میں سبزہ کی کمی نے پلاسٹک انڈسٹری کے لئے تجارت کا ایک نیا میدان کھول دیا ہے۔ ہندوستان کے تقریبا پچاس ہزار افراد لیبیا میں کام کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ جو طرابلس میں رہتے ہیں ان سے چند ملاقاتیں ہوئیں، پر دیس میں اپنے ہم وطنوں سے ملنا، ہمیشہ بہت خوشی کا باعث ہوتا ہے، جن سے میری ملاقاتیں ہوئیں وہ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان کے ساتھ چند شام گزری جو بہت دن تک یاد رہے گی۔ ان کے ایک اجتماع میں تقریر کرنے کا موقع ملا۔ میں نے اسلام کے دعوتی پہلو پر اپنے خیالات پیش کئے ۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو مختلف تحفے دئے گئے۔ ان میں سب سے زیادہ کارآمد چیز ایک جانماز تھا۔ اس جانماز میں ایک خاص قسم کا قطب نما چپکایا ہوا تھا جس کا نام کاشف الاتجاہات (Direction Finder) رکھا گیا ہے۔ یہ قطب نما دنیا کے کسی بھی مقام پر قبلہ کا رخ بتاتا ہے۔ اس میں گھڑی کی طرح چالیس اعداد چاروں طرف گولائی میں لکھے ہوئے ہیں اور سامنے ایک مینار بنا ہوا ہے۔ ہر عدد دنیا کے کسی خاص شہر کو بتاتا ہے۔ آپ جہاں کہیں ہوں، گائیڈ بک میں اس مقام کا عدد دیکھیں اور پھر جانماز کو اچھا کر گھمائیں ۔ قطب نما کی سوئی جب مطلوبہ نمبر پر ٹھہر جائے تو اس وقت مینار کا رخ جس جانب ہوگا وہی اس مقام پر قبلہ کا رخ ہوگا۔ طرابلس کی کانفرنس میں دنیا کے تمام حصوں کے لوگ ساڑھے چار سو کی تعداد میں آئے۔ مختلف ممالک سے تقریبا ۵۰ تنظیموں اور اداروں کی نمائندگی یہاں موجود تھی۔ دعوت دین اور احیاء اسلام کے عنوانات پر اس طرح کے اجتماعات مختلف مسلم ملکوں میں کثرت سے کئے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب خاص طور پر اس معاملہ میں کافی آگے ہے۔ وہ ساری دنیا میں بڑے پیمانہ پر اسلام کی خدمت کرنے والوں کی مدد کر رہا ہے۔ موجودہ مسلم حکمران اگرچہ سیاسی اسلام کا نعرہ لگانے والوں کو برداشت نہیں کرتے۔ مگر دعوتی اسلام کی کوششوں کو وہ ہر طرح کا تعاون دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ملے ہوئے مواقع کو استعمال کیا جائے نہ یہ کہ ہم اپنی جدوجہد کو اس میدان سے شروع کرنا چاہیں جو ابھی ہم کو حاصل نہیں ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader