Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 421

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوا کہ کوئی قوم خواہ عسکری طاقت میں "پر پاور" کا درجہ حاصل کرلے وہ محض طاقت کے بل پر کسی قوم کو زیر نہیں کرسکتی۔ اس کے بعد ٹھیک اسی عمل کو سوویت روس نے افغانستان میں دہرایا۔ بعض داخلی اسباب نے اس کو موقع دیا اور اس نے اپنی دیرینہ خواہش کے تحت افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ مگر یہ اقدام ان کے لئے بے حد مہنگا پڑا یہاں تک کہ ۱۹۸۸ میں انھوں نے افغانستان سے واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح اب یہ بات آخری طور پر ثابت ہو گئی کہ بین الاقوامی معاملات میں طاقت کو پہلا فیصلہ کن مقام حاصل نہیں۔ افغانستان کی موجودہ سیاست بے حد مخمصہ وش ہے۔ روس اگرچہ اپنی فوجوں کو واپس بلا رہا ہے تاہم وہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں ایسی حکومت قائم ہو جو کمیونسٹ نواز نہ ہو یا کم از کم اینٹی کمیونسٹ نہ ہو۔ دوسری طرف "مجا ہدین" کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں سوویت روس کے کسی بھی اثر و نفوذ کو گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ امریکہ اور پاکستان اس مطالبہ کی تائید کر رہے ہیں، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ "مجا ہدین" کی جو حکومت ہوگی وہ امریکہ نواز یا پاکستان نواز ہوگی۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ "مجا ہدین" کی بندوقوں کا رخ جو پہلے روسیوں کی طرف تھا، اب وہ حکمراں افغانی گروہ کی طرف ہوگیا ہے، کیونکہ ان کے متعلق ان کا خیال ہے کہ وہ روسی پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ اس مسئلہ کا حل خوش فہمی اور ایڈ جسٹمنٹ ہے۔ مگر بظاہر ایسا ہونا نا ممکن ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلے دس سال سے مجاہدین کے غیر مصالحانہ تشدد کو سارے عالم اسلام میں جس طرح گلوریفائی کیا گیا ہے اور جس طرح ان کو ہیرو بنایا گیا ہے، اس کے بعد ایڈ جسٹمنٹ کی پالیسی ان کے لئے ہیرو کے مقام سے اترنے کے ہم معنی ہوگی۔ اور انسان کے لئے بلا شبہ یہ مشکل ترین کام ہے۔ مجھے اس میں خدا بھی شبہ نہیں کہ اگر بالفرض روسی اثر و نفوذ افغانستان سے ختم ہو جائے تب بھی اصل مسئلہ ختم ہونے والا نہیں۔ کیونکہ عدم برداشت کا مزاج جو اس وقت روسیوں یا روس نوازوں کے خلاف کام کر رہا ہے وہی خود اپنوں کے خلاف کام کرنے لگے گا۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز برداشت ہے، دوسروں کے مقابلہ میں بھی اور خود اپنوں کے مقابلہ میں بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page