افغانستان کا سفر
Urdu book, p. 422
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلہ میں لینن کی مثال بہت سبق آموز ہے۔ روس میں زار کے زوال کے بعد ۵ مارچ ۱۹۱۷ء کو پہلی پراویژنل گورنمنٹ بنی۔ اس میں لینن کی حیثیت صرف اقلیتی ممبر کی تھی۔ اس کا وزیر اعظم شاہی خاندان کے جارجی لووف (Prince Georgy Lvov) کو بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد الیگزینڈر کرنکی (Aleksander Kerensky) کو ایک اہم وزیر کی حیثیت سے اس میں نمبر ۲ کی حیثیت حاصل تھی۔ لینن کی حیثیت یہ تھی کہ وہ بالشویک پارٹی کا ممبر تھا جو اس وقت کی اسمبلی (Soviets) میں ایک اقلیتی گروپ تہائی کی تعداد رکھتی تھی۔ مگر لینن نے انتہائی گہری تدبیروں کے ساتھ اولاً حریف پارٹی کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اور اس کے بعد گہری تدبیروں کے ذریعہ ۷ نومبر ۱۹۱۷ء کو ماسکو کی پوری حکومت اپنے قبضہ میں کر لی۔ لینن ابتداً اکثر پر راضی ہوا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج اس کا مالک دو بڑی طاقتوں میں سے ایک بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ افغانی مجاہدین "کمتر" پر راضی ہونے کے لئے تیار نہیں اس لئے مجھے امید نہیں کہ وہ کبھی بر تر کو پانے میں کامیاب ہو سکیں گے (68/16-EB) افغانستان میں اگر آپ افغانی مجاہدین سے ملیں تو وہ کہیں گے کہ اسلام ” دین جہاد“ ہے۔ اس کے برعکس کابل کے حکمران طبقہ سے ملیں تو وہ کہیں گے کہ اسلام ” دین صلح“ ہے۔ بظاہر دونوں اسلام کا لفظ بول رہے ہیں۔ مگر حقیقتہ دونوں کا مقصد ایک ہے۔ اسلام کو اپنی پالیسی کی تائید کے لئے استعمال کرنا۔ افغان مجاہدین کے لئے جہاد کی آیتیں مفید ہیں اس لئے وہ جہاد کی آیتوں کے حوالے دیتے ہیں۔ اس کے برعکس حکمران طبقہ کے لئے صلح کی آیتیں مفید مطلب ہیں اس لئے وہ صلح کی آیتوں کی تلاوت کر رہے ہیں۔ آبزرور (Observer) کے نمائندہ مسڑ آر تھر کینٹ (Arthur Kent) نے افغانستان کے اندرونی علاقوں کا سفر کیا۔ اس سلسلہ میں وہ تندھار گئے۔ اپنے مشاہدات کے بعد انھوں نے جو رپورٹ مرتب کی، اس کو ٹائمز آف انڈیا (۱۳ اکتوبر ۱۹۸۸) نے نقل کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ افغانستان کے سرسبز علاقے اجڑے ہوئے صحرا کا منظر پیش کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ تمام بر بادیوں کے باوجود افغانستان کا مستقبل غیر یقینی ہے، کیونکہ مجاہدین سات گروپ میں بٹے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے مستقبل کے نقشہ کے بارے میں ان کے درمیان اتفاق نہیں۔ افغانی مجاہدین کے پاس ” پولیٹیکل لیڈر شپ “ نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader