افغانستان کا سفر
Urdu book, p. 423
By Maulana Wahiduddin Khan
قندھار کے ملا نقیب اللہ سے گفتگو۔ آر تھر کنٹ کی رپورٹ کے مطابق ان کا جواب یہ تھا: صدر نجیب اللہ کے چلے جانے بعد ہم ایک کونسل بنائیں گے تا کہ تمام افغانی مل کر یہ فیصلہ کریں کہ کون ملک پر حکومت کرے ۔ جہاں دورجدوجہد میں اتحاد نہ ہو ، وہاں دور اقتدار میں اتحاد اور بھی زیادہ ناممکن ہو جاتا ہے، مگر افغانی لیڈروں کو اس کی خبر نہیں۔ ٹائم (۲۴ اکتوبر ۱۹۸۸) کی تین صفحہ کی تصویر رپورٹ میں ایک بات یہ بتائی گئی ہے کہ روسیوں کے بیان کے مطابق ، ان کے ۳۱۴ فوجی گم ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ روسی فوجی ہیں جن کو مجاہدین نے گرفتار کر لیا ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو از خود بھاگ کر آنے والے (Defectors) ہیں۔ ان میں سے کچھ کو ٹائم کے نامہ نگار ٹی اسے ڈیوس (T.A. Davis) نے خود سفر کے دوران دیکھا ہے۔ ٹائم کا بیان ہے کہ ان روسی فوجیوں میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے جو مجاہدین کا مذہب ہے اور خود ان کے سابق باپ دادا کا بھی: روس کا انخلا اگرچہ ابھی افغانستان سے ممکن نہیں ہوا ہے۔ تاہم عملی صورت حال میں اب بنیادی فرق پیدا ہو چکا ہے۔ پہلے افغانی مجاہدین کے تشدد کا نشانہ زیادہ تر روسی فوجیں بنتی تھیں۔ اب ان کے تشدد کا نشانہ خود ان کی اپنی قوم بن رہی ہے۔ پہلے وہ روسیوں کو مارتے تھے، اب وہ روس حامی افغانیوں “ کو مار رہے ہیں۔ مگر اس کو خواہ جو نام بھی دیا جائے، تاہم عملی واقعہ یہی ہے کہ پہلے اگر روس کا خاندان اپنے بیٹوں سے محروم ہو رہا تھا تو اب افغانی خاندان اپنے بیٹوں اور جوانوں سے محروم ہو رہا ہے پہلے اگر روسی بینک تباہ ہوتے تھے ، تو اب خود افغانیوں کے کھیت اور باغ اور مکان تباہ ہو رہے ہیں۔ دہلی میں جو لوگ پالم کے علاقہ میں یا اس کے قریب رہتے ہیں ، ان کے لئے سر پر گٹھڑ گٹھڑ آتے ہوئے ہوائی جہازوں کی آوازیں روزانہ کا معمول ہیں۔ کابل میں پورے شہر کا یہی حال ہے۔ ہوائی اڈہ پر اترنے کے بعد سے لے کر پورے زمانہ قیام تک رات دن یہ حال تھا کہ فضا میں ہوائی جہاز اُڑتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader