Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 424

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ تاہم دہلی اور کابل میں ایک فرق ہے۔ دہلی کی فضا میں اڑنے والے جہاز مسافر جہاز ہوتے ہیں اور کابل کی فضا میں اڑنے والے جہاز جنگی جہاز۔ ایک افغانی سے میں نے اس کا ذکر کیا تو اس نے مسکرا کر کہا: You know, we are at war. مجھے یہ جاننے کی خواہش تھی کہ وہ لوگ جن کو باہر کی دنیا میں ”مجاہدین“ کہا جاتا ہے، ان کو افغانستان کے لوگ کیا کہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے میں نے ایک نوجوان (۲۴ سال) کو لیا۔ ان سے میں نے ایسے موقع پر گفتگو کی جب کہ وہاں کوئی ہماری گفتگو کو سننے والا موجود نہ تھا۔ میرے سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ یہاں ان کو مجاہدین تو کوئی نہیں کہتا۔ البتہ یہاں کے لوگوں میں ان کے لئے عام طور پر تین الفاظ رایج ہیں: اپوزیشن ، افراطیون ، اششرار روس ۔ افغانستان جنگ پر ایک معلوماتی فلم بنائی گئی ہے۔ یہ فلم ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۸ کو بی بی سی ٹیلیویژن پر دکھائی گئی۔ اس فلم میں افغانی فوجیوں کے مکالمات ہیں۔ اسی کے ساتھ اس میں روسی فوجیوں کے تاثرات بھی ان کی اپنی زبان میں دکھائے گئے ہیں۔ اس کے مطابق، ایک روسی جنرل نے کہا کہ مستقبل میں اگر کبھی سوویت یونین کو کوئی بین الاقوامی طاقت کے ذریعہ حل کرنا پڑا تو وہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سو بار اس پر غور کرے گا۔ روسی جنرل نے مزید کہا کہ پچھلے دس سال کی اس جنگ میں بے شمار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ روس کے ایک اور فوجی افسر نے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ خالصتاً ایک سیاسی غلطی تھی ، اور اس غلطی کے تمام تر ذمہ دار سابق روسی وزیر اعظم لیونڈ بریزنیف ہیں ۔۔۔۔۔ بریزنیف اگر زندہ ہوتے تو اس سنگین حقیقت کا انکشاف نہیں ہوسکتا تھا۔ تمام بڑی بڑی سیاسی غلطیاں صرف اس وقت کھلتی ہیں جب کہ ان کا ارتکاب کرنے والے لیڈر مر جائیں یا وہ اقتدار کی کرسی سے ہٹ چکے ہوں۔ روانگی سے پہلے دہلی میں مجھے سپرنگ کا ایک ہفتہ دار اخبار ( ۷ اکتوبر ۱۹۸۸) ملا۔ اس میں افغانستان سے متعلق ایک مضمون تھا۔ نصف صفحہ میں اصل مضمون تھا۔ اور بقیہ نصف میں حسب ذیل سرخی جلی حرفوں میں درج تھی : ” اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے افغان مجاہدین کی جدوجہد فیصلہ کن مرحلہ میں“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page