Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 425

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں افغان نوجوانوں کی تصویریں تھیں۔ ایک تصویر میں کچھ افغانی نوجوان ایک تختی لٹکائے ہوئے تھے جس پر انگریزی میں لکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔ قرآن زندہ باد (Long live Qur'an) خدا کو عرب میں "اسلامی حکومت" قائم کرنے کے لئے ڈھائی ہزار سالہ منصوبہ بہنانا پڑا۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے تمام اصاغر و اکابر ڈھائی دن سے بھی کم عرصہ میں اسلامی حکومت کا قلعہ کھڑا کرنے کا کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ موجودہ مسلمان سیاست کے معاملہ میں اس قدر منفعتہ خیز حد تک جند باتی کیوں ہیں۔ اس کی وجہ میری سمجھ میں یہ آتی ہے کہ موجودہ لیڈروں نے تقریباً بلا استثناء یہ کیا کہ مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کے لئے ایک یا دوسری شکل میں سیاسی لوریاں سنائیں۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی حساسیت سیاست کے معاملہ میں ضرورت سے زیادہ جاگ اٹھی۔ ۱۹۱۲ میں جب مصطفیٰ کمال اتاترک یونانی فوجیوں کو پچھاڑ کے وقتی طور پر سمرنا میں داخل ہوگئے تو برصغیر ہند میں "سمرنا بہار" آگئی۔ اشعار اور مضامین اور تقریروں کا ایک طوفان بر پا ہوگیا۔ اس کا خلاصہ ایک شعر میں یہ ہے: وہ پہنچا پرچم اسلام پھر ارض سمرنا میں مگر سرنا کی فتح کو فتح اسلام سمجھنا جتنا بے معنی تھا، افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کو فتح اسلام سمجھنا بھی اتنا ہی بے بنیاد ہے۔ مگر اقتدار کے لئے مسلمانوں کی جوش تمنا اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وہ ہر لکڑی پر فتح اسلام کا جھنڈا باندھ دینا چاہتے ہیں، خواہ اگلے لمحہ حالات کا طوفان اس جھٹڈے کو گرا کر گہری خندق میں کیوں نہ ڈال دے۔ ایک صاحب سے موجودہ زمانہ میں مختلف قوموں کے باہمی جھگڑوں کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ یہ جھگڑے زیادہ تر سیاسی جھگڑے کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان "پشتون" علاقہ کے لئے جھگڑا۔ ایران اور عراق کے درمیان شط العرب کے لئے جھگڑا۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کے لئے جھگڑا۔ وغیرہ۔ کوئی قوم اس کے لئے تیار نہیں ہے کہ اس کو بروقت جو کچھ حاصل ہے اس پر قانع ہو کر اپنی تعمیر کا کام کرے۔ ہر قوم اس چیز کے لئے لڑرہی ہے جو اس کو حاصل نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ غیر حاصل شدہ کے پیچھے دوڑنے میں حاصل شدہ بھی برباد ہورہا ہے۔ ایک صاحب اخوانی مزاج کے تھے۔ انھوں نے انقلابی اسلام والی باتیں کیں۔ انھوں نے کہا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page