Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

افغانستان کا سفر

Urdu book, p. 427

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی غیر موجودگی میں ایک کھڑے سے مسافر نے اس کی گٹھڑی ہٹا دی اور جگہ بنا کر وہاں بیٹھ گیا۔ مذکورہ عورت جب باہر واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کی گٹھڑی ہٹی ہوئی ہے اور وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ سخت برہم ہو گئی۔ اس نے غصہ میں کہا: نہ رہی نوابی، ورنہ تم کو زندہ دیوار میں چنوادیتی یہ واقعہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر سعید صاحب نے کہا کہ مسلمانوں سے حکومت چلی گئی، مگر ان کا حاکمانہ مزاج اب تک ان سے نہیں گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ آج جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ پیش آرہا ہے وہ سب ان کے اسی مزاج کی قیمت ہے۔ کوئی نعمت آدمی کو ملے تو آدمی کو اس پر شکر کرنا چاہئے، اور جب وہ چھن جائے تو صبر۔ مگر مسلمانوں نے نہ پہلے شکر کیا اور نہ اب وہ صبر کرنے پر راضی ہیں۔ کھانے کی میز پر ایک بار چھ آدمی تھے۔ ان میں سے پانچ عرب تھے۔ صرف میں غیر عرب تھا۔ ایک مصری تھے جو مسلسل بول رہے تھے۔ دوسرے لوگ متکلم کے بجائے زیادہ تر سامع بنے رہے۔ مصری صاحب مجلسی انداز کی باتیں کر رہے تھے، اور طرح طرح کے لطیفے بیان کر رہے تھے۔ اس اثنا میں انھوں نے اس عربی مقولہ کو دہرایا: خیر الکلام ما قل ودل (بہترین کلام وہ ہے جو مختصر ہو اور مدلل ہو) اس مختصر مقولہ پر بھی انھوں نے ایک مفصل تقریر کر ڈالی۔ مصری کا مذکورہ مقولہ کو نقل کرنا مقولہ برائے مقولہ تھا۔ کیونکہ ان کا اپنا کلام سراسر اس سے مختلف تھا۔ یہی حال دین کے معاملہ میں بھی اکثر لوگوں کا ہے۔ وہ دین کے موضوع پر تقریر کرتے ہیں۔ مگر یہ سارا معاملہ تقریر برائے تقریر ہوتا ہے۔ وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی مجلسی آدمی طرح طرح کی باتیں کرے، حالانکہ ان میں سے کسی بات پر بھی اس کا ایمان نہ ہو۔ یہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو ایک یورپی ملک سے آئے تھے۔ انھوں نے اسلامیات ہے ایم اے کیا ہے۔ وہ مجھ سے واقف نہ تھے۔ حتیٰ کہ انھوں نے میرا نام بھی نہیں سنا تھا، ان سے ایک اسلامی موضوع پر گفتگو ہوئی۔ میں نے ان کے نقطہ نظر سے مختلف نقطہ نظر پیش کیا اور اس کے حق میں قرآن و حدیث سے دلیلیں دیں۔ میری بات سے ان پر استعجاب کی کیفیت طاری ہوگئی۔ تاہم وہ اپنی زبان سے یہ نہ کہہ سکے کہ آپ کا نقطہ نظر درست ہے۔ انھوں نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی : مگر فلاں فلاں مشہور لوگوں نے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page