یمن کا سفر
Urdu book, p. 462
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفر اگست ۸۸ء کی ۲۷ تاریخ تھی ۔ اور دن کے ڈیڑھ بجے کا وقت ، میں اپنے دفتر میں مطالعہ میں مشغول تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ ریسیور اٹھایا تو معلوم ہوا کہ کیلی فورنیا (امریکہ) سے ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی بول رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ۲۳۔ ۲۷ دسمبر ۱۹۸۸ء کو وہ لوگ امریکہ میں ایک انٹر نیشنل سیرت کانفرنس کر رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں بھی اس میں شرکت کروں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ اتنا وقت نکال کر آئیں کہ کانفرنس میں شرکت کے بعد امریکہ کے دوسرے مقامات پر بھی آپ کے خطابات کا پروگرام رکھا جا سکے ۔ اس گفتگو کے موقع پر میں دہلی میں تھا اور ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی (ڈائرکٹر اسلامک سوسائٹی) کیلی فورنیا میں ۔ اس وقت میرے اور ان کے درمیان ۱۴ ہزار میل سے بھی زیادہ کا فاصلہ تھا ۔ مگر ٹیلی فون پر دونوں کو ایک دوسرے کی آواز اس طرح صاف سنائی دے رہی تھی جیسے دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہوں ۔ ٹیلی فون رابطہ کا یہ نظام شاید اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اُس دوسرے عظیم تر ربط کے بارے میں سوچ سکے جو بندے اور خدا کے درمیان اعلیٰ ربانی سطح پر قائم ہوتا ہے ۔ ۱۳ ستمبر کو ان کا باضابطہ دعوت نامہ (۵ ستمبر ۱۹۸۸) بذریعہ ڈاک مل گیا ۔ اس میں ٹیلی فونٰی دعوت نامہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ " انٹرنیشنل سیرت کانفرنس" کا عمومی موضوع حسب ذیل ہوگا : The Sirah of Prophet Mohammed and its Message for Contemporary Men and Women. میرے پاسپورٹ کے صفحات ختم ہو گئے تھے ، مگر اس کی قانونی مدت ابھی باقی تھی ۔ صفحات کے اضافہ کی درخواست دی گئی ۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی کارروائی تھی ۔ مگر تقریباً ایک مہینہ کی دفتری دوڑ دھوپ کے بعد ۱۰ صفحہ کا اضافہ ہو کر پاسپورٹ دوبارہ مل سکا ۔ یہ ہندوستانی دفتر کا حال تھا ۔ دوسری طرف امریکی سفارت خانہ میں ویزا کی درخواست

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader