یمن کا سفر
Urdu book, p. 463
By Maulana Wahiduddin Khan
دی گئی تو انھوں نے درخواست کے اگلے ہی دن ایک سال (۱۲ دسمبر ۱۹۸۸ تا ۱۱ دسمبر ۱۹۸۹) کا ملٹیپل ویزا دے دیا۔ یعنی اس ویزا پر میں ایک سال تک امریکہ میں قیام کرسکتا تھا۔ یا ایک سال کے دوران جتنی بار چاہے وہاں جاسکتا تھا۔ جب کہ ہماری درخواست میں صرف دو ہفتہ کا ویزا مانگا گیا تھا یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے نظام میں وہ کیا فرق ہے جس نے ایک کو پیچھے اور دوسرے کو آگے کر دیا ہے ۔ اس فیاضانہ سلوک کا سبب غالباً یہ تھا کہ انھوں نے اپنے ریکارڈ کے مطابق پایا کہ اس سے پہلے نومبر ۱۹۸۵ میں میں امریکہ گیا تو میں کانفرنس میں شرکت کے بعد فوراً واپس آگیا۔ وہاں میں نے نہ ان کی انتظامیہ کے لیے کوئی مسئلہ پیدا کیا اور نہ ناجائز طور پر زیادہ ٹھہرنے کی کوشش کی ۔ ترقی یافتہ ملکوں میں صرف وہ شخص مشکلات سے دوچار ہوتا ہے جو وہاں کے نظام سے انحراف کرے۔ مگر ہندوستان جیسے ملکوں میں ہر حال میں آدمی کو دفتری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، خواہ اس نے مقررہ نظام سے ادنیٰ انحراف بھی نہ کیا ہو۔ آخری دنوں میں ایک مسئلہ پیش آیا۔ میرے رفیق سفر کو نئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ سے ویزا حاصل کرنے کے لیے ایک تحریر درکار تھی جس میں بتایا گیا ہو کہ امریکہ کے متعلقہ اسلامی ادارہ نے ان کو بھی میرے ساتھ کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے ۔ مگر وقت اتنا کم تھا کہ ڈاک کے ذریعہ سے امریکہ کا خط ہندوستان نہیں پہونچ سکتا تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے امکانات کو استعمال کر کے جدید انسان نے اس مسئلہ کو حل کر لیا ہے۔ چنانچہ امریکہ کے دفتر کو بذریعہ ٹیلی فون ضرورت بتائی گئی اور ایک گھنٹہ کے اندر ان کا دستخط شدہ خط دہلی میں موجود تھا۔ یہ تیز رفتار ترسیل اس آلہ کے ذریعہ ممکن ہوئی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں تصویری مشین کہا جاتا ہے اور جس کا مختصر نام فیکس (Facsimile machine) ہے ۔ آپ ایک تحریر یا ایک خط تیار کر کے مشین میں ڈالیں، اور ایک سیکنڈ کے اندر وہ مطلوبہ مقام پر پہونچ کر ویساہی چھپا ہوا نکل آئے گا۔ ابتدائی انسانی دور میں صرف پیدل پیام رسانی کا طریقہ رائج تھا۔ پھر گھوڑوں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader