یمن کا سفر
Urdu book, p. 464
By Maulana Wahiduddin Khan
استعمال ہونے لگا۔ اس کے بعد ٹیلی گرام، ٹیلی فون اور ٹیلیکس کے طریقے دریافت ہوئے ۔ اب ٹیکس کے طریقہ نے سب پر برتری حاصل کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی زیادہ نعمتیں انسان کو دے رکھی ہیں، مگر کتنے کم لوگ ہیں جو اس کا واقعی شکر ادا کرتے ہوں۔ دہلی کا انٹرنیشنل ایئرپورٹ ہے۔ انتظار گاہ میں بہت سے ملکی اور غیر ملکی مسافر دروازہ کھلنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ ہندوستانیوں نے ہندوستانی ہوائی اڈوں پر تبصرہ شروع کیا۔ ایک شخص نے کہا کہ میں نے فلاں فلاں ملکوں کے ہوائی اڈے دیکھے ہیں، ان کے مقابلہ میں ہندوستانی ہوائی اڈے بالکل پسماندہ نظر آتے ہیں۔ قریب کی کرسی پر ایک جاپانی مسافر بیٹھا ہوا ان کی پرجوش باتیں سن رہا تھا۔ آخر میں وہ نہایت آہستگی کے ساتھ بولا : دوستو! کسی ملک کا ہوائی اڈہ ویسا ہی ہوتا ہے جس کا وہ تحمل کر سکتا ہو اور جس کا وہ مستحق ہو، نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم : Friends, a country gets the airports it can afford — and deserves. No more, no less. جاپانی کا یہ تبصرہ سن کر اکثر لوگ چپ ہو گئے۔ تاہم ایک شخص بولا : جناب عالی، اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی داداؤں (Political dadas) کی حکومت ہے ۔ اور جب تک یہ صورتِ حال قائم ہے، ہمارے ملک میں کوئی ترقی نہیں ہو سکتی ۔ دہلی سے پین ایم (Pan Am) کی فلائٹ نمبر ۷۲ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ۲۱ دسمبر ۱۹۸۸ کو صبح چار بجے کا وقت تھا کہ جہاز اپنا پر پھیلائے ہوئے رن وے پر دوڑا، اور پھر اوپر اٹھ کر پرواز کرنے لگا۔ یہ عین وہی انداز تھا جو کسی بڑی چڑیا کا اندازِ پرواز کے وقت ہوتا ہے۔ ہوائی جہاز بھی عین اسی اصول کے تحت اُڑتا ہے جس طرح کوئی چڑیا اڑتی ہے۔ ہوائی جہاز کیا ہے ۔ ہوائی جہاز دراصل چڑیا کی مشینی نقل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوائی جہاز کا پہلا کامیاب ماڈل وہ ہے جو نیچر (قدرت) نے تیار کیا۔ اب اگر ہوائی جہاز کی نقل تیار کرنے کے لیے ذہانت درکار ہے تو ہوائی جہاز کی اصل بنانے کا کام کیا ذہانت کے بغیر انجام پاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہوائی جہاز، دوسری بے شمار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader