یمن کا سفر
Urdu book, p. 465
By Maulana Wahiduddin Khan
چیزوں کی طرح ، اس بات کا خاموش اعلان ہے کہ یہاں ایک زندہ ذہانت موجود ہے۔ کائنات کے پیچھے زندہ ذہانت کا اقرار کیے بغیر کائنات کی توجیہہ نہیں کی جاسکتی۔ ہوائی جہازوں میں سگریٹ پینے کی اجازت ہوتی ہے۔ مگر ٹوائلٹ (غسل خانہ) میں سگریٹ پینا سخت منع ہے۔ حسب معمول ٹوائلٹ کے باہر لکھا ہوا تھا کہ اس کے اندر اسموکنگ نہ کریں۔ اس ممانعت کے نیچے یہ سطر درج تھی : This lavatory is equipped with a smoke detector میں نے اس فقرہ کا اردو میں ترجمہ کرنا چاہا تو اس کا عمدہ لفظی ترجمہ سمجھ میں نہ آیا۔ ایک لمحہ کے لیے خیال ہوا کہ اردو زبان جدید ترقی یافتہ زبانوں کے مقابلہ میں بہت پیچھے ہے۔ مگر یہ بات کلی طور پر صحیح نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ انگریزی زبان کا ارتقا، جن حالات میں ہوا، اس کی وجہ سے اس کے اندر مشینی خیالات کو ادا کرنے کی زیادہ بہتر صلاحیت پیدا ہو گئی۔ مگر ایک اور میدان ایسا ہے جہاں اردو (اور عربی) کو مغربی زبانوں پر فوقیت حاصل ہے۔ یہ ہے روحانی تجربات یا معرفتِ ربانی والے خیالات کو ادا کرنا۔ مسٹر خوشونت سنگھ نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ مسٹر راجیو گاندھی جہاز چلا رہے تھے۔ اتفاق سے خوشونت سنگھ بھی اسی جہاز سے سفر کر رہے تھے۔ راجیو گاندھی نے خوشونت سنگھ کو پیش کش کی کہ وہ پائلٹ کے کیبن (Cockpit) میں آئیں اور دیکھیں کہ ہوائی جہاز کس طرح چلایا جاتا ہے۔ ہوائی جہاز کا ایک عام مسافر صرف ہوائی جہاز کو اڑتے ہوئے دیکھتا ہے ۔ وہ اس کا مشاہدہ نہیں کرتا کہ ہوائی جہاز کس طرح اڑایا جاتا ہے ۔ کوئی مجھ سے پوچھے تو میں کہوں گا کہ میں چاہتا ہوں کہ کائناتی جہاز کے "انجین" کو دیکھوں۔ میں اس عالم غیب کو دیکھوں جس کے تخت پر یہ عالمِ شہود چلا جا رہا ہے۔ موت کے بعد ہر آدمی اس کو دیکھے گا۔ مگر اس لذتِ دیدار کی سعادت انھیں لوگوں کو ملے گی جنھوں نے دنیا میں اپنی "بینائی" کی حفاظت کی ہو۔ جو لوگ دنیا میں اپنی "بینائی" کو کھودیں انھوں نے گویا اپنے آپ کو اس ربانی مشاہدہ کے لیے نااہل بنا لیا۔ وہ دنیا میں خدا کی بات کو دیکھنے سے محروم تھے ، آخرت میں وہ خدا کی ذات کو دیکھنے سے محروم رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader