یمن کا سفر
Urdu book, p. 466
By Maulana Wahiduddin Khan
دہلی اور فرینفرٹ کے درمیان سفر کرتے ہوئے جہاز ہلنے لگا ۔ تقریبا ایک گھنٹے تک شدید جھٹکے لگتے رہے ۔ خالص فنی اعتبار سے اس قسم کے جھٹکے خطر ناک نہیں ہوتے ۔ مگر ایک عام مسافر جو ۳۵ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہا ہو اور اس کی سواری ہچکولے کھانے لگے تو اس کا غیر متاثر رہنا سخت مشکل ہے ۔ بے اختیار میری زبان سے کلمہ کے الفاظ نکلنے لگے ۔ اس وقت خیال آیا کہ آخر وقت میں کلمہ پڑھنے کی اہمیت کیوں ہے ۔ اس کی روح یہ ہے کہ مومن پر آخری وقت آئے تو وہ چاہنے لگتا ہے کہ اپنے اعمال نامہ میں کوئی آخری نیکی ریکارڈ کرا سکے ۔ اس وقت اس کو سب سے بہتر چیز صرف کلمہ نظر آتا ہے ۔ کیوں کہ کلمہ دو سب سے بڑی حقیقت کا اعلان ہے ۔ ایک یہ کہ اس دنیا کا معبود صرف ایک اللہ ہے ۔ اور دوسرے یہ کہ یہاں کامل صداقت صرف ایک ہے ، اور وہ وہی ہے جو نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انسانوں پر ظاہر کی گئی ۔ آخر وقت میں کلمہ پڑھ کر بندہ گویا یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ خدایا ، میں کوئی عمل نہ کر سکا ، اب میں اعتراف کو تیری خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔ میرے پاس اقرار عملی کا سرمایہ نہیں ، تو اقرار لسانی کو میری طرف سے قبول کرلے ۔ ساڑھے آٹھ گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز فرینکلفرٹ کے ہوائی اڈہ پر اترا ۔ فرینکلفرٹ کو مغربی جرمنی کا تجارتی مرکز (Business capital) کہا جاتا ہے ۔ گویا مغربی جرمنی میں اس کی حیثیت وہی ہے جو ہندوستان میں بمبئی کی اور امریکہ میں نیو یارک کی ۔ ۱۹۴۳ کے ہوائی حملہ میں فرینکلفرٹ تباہ ہو گیا تھا ۔ تا ہم اب چند تاریخی عمارتوں کے سوا کہیں اور اس کا نشان موجود نہیں ۔ اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں تخریب کے بعد نئی تعمیر کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے ۔ فرینکلفرٹ میں ایک دکان ہے جو ۳۲۵ سال سے مسلسل جاری ہے اس کا نام میسن (Meissen) ہے ۔ یہ کٹلری کی دکان ہے ۔ یہاں سے آپ ۷۰ قسم کی قینچیاں اور ایک سو قسم کی چھریال خرید سکتے ہیں ۔ تجارت کی کامیابی سب سے زیادہ استقلال پر منحصر ہے ۔ مگر یہی صفت موجودہ مسلمانوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے ۔ فرینکلفرٹ سے بین ایم کی فلائٹ نمبر ۷۴ کے ذریعہ سفر ہوا۔ ساڑھے نو گھنٹے کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز نیو یارک پہنچا۔ نیویارک میں باہر کا موسم کافی ٹھنڈا تھا۔ تاہم ایر پورٹ کے اندر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader