یمن کا سفر
Urdu book, p. 467
By Maulana Wahiduddin Khan
کا آدمی اپنے آپ کو ایک جزیرہ میں محسوس کر رہا تھا۔ نیو یارک کو عالمی اقتصادی مرکز (World Financial Centre) کہا جاتا ہے۔ یہ جدید مواصلاتی ذرائع کا کرشمہ ہے، اس کے بغیر کسی شہر کو عالمی اقتصادی مرکز کی حیثیت حاصل نہیں ہوسکتی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد تقریباً سو سال تک امریکہ کو یہ حیثیت حاصل رہی۔ مگر اب امریکہ پر زوال کے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس کا اعتراف حال میں خود رونالڈ ریگن نے کیا۔ پین ایم کی میگزین (دسمبر ۱۹۸۸) میں ایک مضمون سفر کے بارے میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ سفر میں اگرچہ بہت سے فائدے ہیں، لیکن سفر ایک تھکا دینے والا عمل (Tiring task) ہے۔ کم از کم یہ بات میرے لیے صد فی صد سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ اس سفر کے لیے جب میں دہلی سے روانہ ہوا تو گھر سے رخصت ہوتے ہوئے میری زبان سے نکلا : مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں مذبح کی طرف جا رہا ہوں ۔ سفر میں خواہ بظاہر کتنی ہی چمک دمک ہو ، مگر میرے لیے وہ ہلاکت خیز حد تک تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ ہر بار یہ سوچتا ہوں کہ اب کبھی کسی سفر میں نہ جاؤں گا۔ مگر مشن کا تقاضا مجبور کرتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار سفر کرنا پڑتا ہے ۔ انسان کا ذہن قدرت کا ایک خاموش کارخانہ ہے ۔ وہ ہر آن اپنی " پیداوار " دیتا رہتا ہے۔ البتہ عام کارخانوں کی طرح، ذہن کا معاملہ بھی یہ ہے کہ جیسا " خام مال " اس کے اندر ڈالا جائے اسی کے مطابق وہ اپنی پیدا وار دے گا۔ مثلاً ایک شخص حد، بغض، گھمنڈ اور ناجائز نفع اندوزی جیسی چیزیں اپنے ذہن میں ڈالے تو اس کے ذہن سے جو چیزیں بن کر نکلیں گی، وہ انھیں برائیوں کا مرکب ہوں گی۔ اس کے برعکس جو شخص صالح چیزیں اپنے ذہن میں ڈالے اس کا ذہن صالح پیدا وار کا کارخانہ بن جائے گا۔ میرے اندر خدا کے فضل سے توحید، آخرت اور تعمیر پسندی کا مزاج ہے۔ اس لیے میرے ذہن سے جو شکری پیدا وار برآمد ہوتی ہے وہ ہمیشہ اٹھیں چیزوں کا مرکب ہوتی ہے۔ نیو یارک سے لاس اینجلس جاتے ہوئے راستہ میں بن جانسن کا واقعہ ذہن میں آیا ، اس نے کہا تھا کہ لوگوں نے مجھ سے میرا میڈل چھینا ہے نہ کہ میری رفتار (الرسالہ فروری ۱۹۸۹، صفحه ۵) میرے ذہن میں آیا کہ اس بات کو اگر لفظ بدل کر کہیں تو وہ یہ ہوگا کہ : لوگوں نے مجھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader