Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 468

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اپنی دی ہوئی چیز چھینی ہے نہ کہ خدا کی دی ہوئی چیز۔ انسان کی دی ہوئی چیز ہمیشہ کم ہوتی ہے اور خدا کی دی ہوئی چیز ہمیشہ زیادہ۔ ہر آدمی جب بھی کوئی چیز کھوتا ہے تو وہ "کم" کو کھوتا ہے "زیادہ" پھر بھی اس کے پاس باقی رہتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ کم کو بھول کر زیادہ پر اپنی ساری توجہ لگا دے۔ ایک اور موقع پر ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان پر یہ الفاظ آگئے : آج کا انسان تمنا کے درجہ میں بھی جنت کا طالب نہیں ، عمل کے درجہ میں اس کا طالب ہونا تو درکنار ۔ ایسی حالت میں لوگوں پر جنت کے دروازے کھلیں تو کیسے کھلیں ۔ ہندوستان سے امریکہ جانے کے لیے پان امریکن کی دو روٹ ہیں۔ ایک لندن کے راستہ سے ۔ دوسرا ، فرنیکفرٹ کے راستہ سے۔ پہلی بار نومبر ۱۹۸۵ میں جب میں امریکہ گیا تھا تو لندن کے راستہ سے گیا تھا۔ امریکہ کے لیے میرا موجودہ سفر ۲۱ دسمبر ۱۹۸۸ کو ہوا۔ کانفرنس کے منتظمین نے اس بار جو ٹکٹ بھیجا وہ فرنیکفرٹ کے راستہ سے تھا ۔ جس دن میں نے فرنیکفرٹ سے نیویارک کے لیے پین ایم کی فلائٹ نمبر ۷۴ سے سفر کیا۔ عین اسی دن پین ایم کا دوسرا جہاز فلائٹ نمبر ۱۰۳ لندن سے نیو یارک کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اگر میری روٹ لندن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page