ریاض کا سفر
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
كل حركة انسانية ، مهما كانت اسلامية او غير اسلامية فهى تجرى فى مجراها التي قدر لها منذ البدء - لا يمكن لاحد ان يغير مجراها من الوسط - حتى ولو حاول مؤسس تلك الحركة هذا فلا ريب انه سيفشل - اذا كان رجل مع حركة ثم ظهر له ان فيها غلطا ، فلا سبيل له الا ان يعتزل تلك الحركة ويبدأ من جديد - واذا هو قام على تصحيحها وجعل يجتهد ان يتجه بتلك الحركة غير اتجاهها فليس له فى النهاية الا الفشل - انما ينبغى عليه ان لا يضيع عمره الثمين الذى بقى عنده - ويستعمل نفسه فى العمل الصحيح والجهد المثمر - هذا ما عندى والعلم عند الله العلى الخبير - وحيد الدين خان ۱۱ ستمبر ۱۹۸۲ اگست، ستمبر، اکتوبر ۱۹۸۲ کا بیشتر حصہ سفر میں گزرا۔ اس دوران میں مجھے دنیا کے تین براعظموں میں جانے کا موقع ملا۔ ایشیا، افریقہ، یورپ۔ ایشیا میں سعودی عرب، دبئی اور کویت۔ افریقہ میں لیبیا ، روانڈا، یوگنڈا، کینیا اور ایتھوپیا۔ یورپ میں انگلینڈ، فرانس، مالٹا، یونان اور اٹلی۔ طرابلس کی موتمر میں ساری دنیا کے لوگ جمع تھے۔ آسٹریلیا اور امریکہ سمیت تقریباً ہر ملک کی نمائندگی وہاں موجود تھی۔ ان لوگوں سے کثرت سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس طرح گویا ان مہینوں میں بالواسطہ یا براہ راست طور پر میں نے ساری دنیا کو دیکھ لیا۔ ان سفروں میں طرح طرح کے مختلف تجربات اور مشاہدات سامنے آئے۔ یہ تجربات اور مشاہدات انشاء اللہ الرسالہ میں آتے رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader