Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

حج کا سفر اگست ۱۹۸۲ میں میں بعض ملکوں کے سفر پر نکلا۔ اس سفر میں ’’ حج ‘‘ کا پروگرام شامل نہ تھا۔ حتیٰ کہ میرے ذہن میں اس کا تصور بھی نہ تھا۔ روانڈا ( افریقہ) پہنچا تو وہاں سے اچانک سفر حج کے اسباب پیدا ہو گئے ۔ اس معاملہ میں میرے ساتھ بالکل وہ صورت پیش آئی جو کسی شاعر نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے : خدا کے دین کا موسیٰ سے پوچھے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے حج کا یہ سفر اسلامک سنٹر (کیگالی) کے ڈائرکٹر جناب محمد سلیمان القائد کے ساتھ ہوا۔ وہ چونکہ اس سے پہلے دو بار حج کر چکے تھے اس لئے پورے سفر میں ان کی رہنمائی بہت مفید ثابت ہوئی کیگالی سے ہم ایتھوپیئن ایر لائنز کے ذریعہ ۱۵ ستمبر ۱۹۸۲ کی صبح کو روانہ ہوئے۔ ہماری پہلی منزل اینٹی (Entebbe) تھی ۔ یہاں جہاز ایک گھنٹہ ٹھہرا اور ہم کو موقع ملا کہ ہم یوگنڈا کے اس شہر پر ایک طائرانہ نظر ڈال سکیں۔ اینٹی ایک چھوٹا ہوائی اڈہ ہے۔ مگر چاروں طرف پھیلی ہوئی شادابی نیز سمندر کے ساحل نے اس کو کافی خوبصورت بنا دیا ہے۔ اسی مقام پر ۱۹۷۶ میں ہائی جیکنگ کا مشہور واقعہ پیش آیا تھا جب کہ فلسطینیوں نے ایک اسرائیلی جہاز کو بحیر ا اینٹی کے ہوائی اڈہ پر اتار لیا تھا۔ چند روز تک غیر یقینی صورت حال رہی۔ اس کے بعد اچانک اسرائیلی ہوائی جہاز اینٹی کے ہوائی اڈہ پر اترے ۔ انہوں نے حیرت انگیز مہارت کے ساتھ فلسطینیوں کو مغلوب کیا اور پھر اپنے تمام آدمیوں کو لے کر اسرائیل پہنچ گئے۔ ہماری دوسری منزل عد لیس ابا با تھی ۔ یہاں سے ہمیں ہوائی جہاز بدلنا تھا۔ اس سلسلے میں یہاں ایک روز قیام رہا۔ عد لیس ابابا ایتھوپیا کا دارالسلطنت ہے ۔ ایتھوپیا (حبشہ) وہ ملک ہے جہاں صحابہ کرام نے پہلی ہجرت کی تھی ۔ اسی خاک سے بلال حبشی پیدا ہوتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہاں کا حکمراں نجاشی تھا۔ وہ نہایت عادل حکراں تھا اور اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ تا ہم یہاں کی اکثر آبادی بدستور اپنے عیسائی مذہب پر قائم رہی۔ ایتھوپیا کے ایک سرحدی علاقہ (اریٹیریا) میں مسلمانوں کی آبادی ہے۔ مگر ان مسلمانوں کو اس کے سوا اور کوئی کام معلوم نہیں کہ یہاں کی عیسائی حکومت سے بے معنی سیاسی لڑائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page