یمن کا سفر
Urdu book, p. 504
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے ، ان سے اندازہ ہو اک یہاں کی سیاہ فام نسل میں اسلام کی اشاعت کے زبردست امکانات پائے جاتے ہیں ۔ اگر یہاں کے مسلمانوں میں دعوتی جذبہ پوری طرح بیدار ہو جائے اور وہ سیاہ فام نسل میں اسلام کی تبلیغ بڑے پیمانہ پر شروع کر دیں تو عین ممکن ہے کہ ان کی پوری قوم اسلام میں داخل ہو جائے ۔ امریکہ میں اظہار خیال اور اشاعت افکار کی مکمل آزادی ہے ۔ یہاں وہ منافقت بھی نہیں کہ کاغذ پر کچھ لکھا ہو اور عمل کسی اور چیز پر کیا جاتا ہو ۔ مسلمان اگر اس امکان کو استعمال کریں اور یہاں کی سیاہ فام نسل کو اسلام کے حلقہ میں داخل کر لیں تو اس کے بعد امریکہ میں ایک نئی تاریخ کا آغاز ہو جائے گا ۔ امریکہ میں اس وقت یہودی غلبہ قائم ہے ۔ اگر مذکورہ واقعہ رونما ہو سکے تو یہ منحوس غلبہ ختم ہو کر یہاں ایک نیا صحت مند غلبہ شروع ہو جائے گا ۔ بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ امریکیوں کے خیالات سننے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہاں کے سنجیدہ لوگ یہودی غلبہ کو بالکل پسند نہیں کرتے مگر اسلام کے سوا کوئی چیز نہیں جو امریکہ سے اس منحوس غلبہ کو ختم کر سکے ۔ یہاں آ کر اسلام خود امریکہ کی اپنی ایک ضرورت بن جاتا ہے ۔ پاکستان میں راقم الحروف کی تمام کتابیں چھپ گئی ہیں اور وہاں عام طور پر ملتی ہیں ۔ یہاں کے ایک پاکستانی مسلمان نے کراچی سے ظہور اسلام“ حاصل کی تھی اور اس کو پڑھ چکے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے اس کتاب کے ایک باب (حنین : تاریخ کے دو علامتی کردار) میں نواسۂ رسول کے خلاف قلم اٹھایا ہے ، یہ کہاں تک درست ہے ۔ میں نے کہا کہ میں نے اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا ہے کہ حسین کے عمل کے مقابلۂ میں حسن کے عمل کو ترجیح دی ہے ، اور وہ بھی بہر حال نواسۂ رسول تھے ۔ پھر میں نے کہا کہ حسین اور حسن کا معاملہ امت کے لیے ایک آزمائش ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعہ سے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں دو رول ماڈل (Role Models) رکھ دیئے تھے ۔ ایک رول ماڈل (نمونۂ عمل) حسین کا ، جس سے امت کو باہمی خون ریزی کے سوا کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں ملا ۔ دوسرا رول ماڈل حسن کا ، جس سے اسلام اور امتِ اسلام کو زبردست فائدے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader