Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 505

By Maulana Wahiduddin Khan

حاصل ہوئے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، ظہور اسلام) اب اللہ آپ کا امتحان لے رہا ہے کہ آپ دونوں میں سے کس رول ماڈل کو اپنے لیے اختیار کرتے ہیں۔ حسین کے رول ماڈل میں چونکہ جاہ طلب اور سیاست پسند لوگوں کے لیے گنجائش نکلتی ہے، اس لیے لوگ اس کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ مگر واقعات ثابت کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس رول ماڈل کو اپنایا، انھوں نے دوبارہ اسلام کی تاریخ میں بربادی کے سوا کسی اور چیز کا اضافہ نہیں کیا۔ جب کہ حسن کا رول ماڈل اپنانے والوں نے ہمیشہ تاریخ میں مثبت اضافے کیے ہیں ۔ ایک مجلس میں میں نے دیکھا کہ ایک صاحب روس کو برا کہہ رہے ہیں اور دوسرے صاحب امریکہ کو۔ میں نے کہا کہ روس اور امریکہ میں داخلی حالات کے اعتبار سے ضرور فرق ہے، مگر جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے ، دونوں کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ۔ دونوں میں سے کسی کی بھی خارجہ پالیسی اصول کی بنیاد پر قائم نہیں۔ وہ تمام تر استحصال کی بنیاد پر چلائی جارہی ہے ۔ مثلاً افغانستان اور فلسطین کے معاملہ کو تقابلی طور پر دیکھئے۔ افغانستان میں روس مقامی کمیونسٹ عناصر کا حامی ہے ، اور امریکہ مقامی مسلم مجاہدین کا۔ اس کے برعکس فلسطین میں امریکہ اسرائیل کا حامی اور سر پرست بنا ہوا ہے ، اور روس فلسطینی مسلمانوں کی تنظیم کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ گویا افغانستان میں روس امریکی کردار ادا کر رہا ہے اور فلسطین میں امریکہ روسی کردار ادا کرنے میں مشغول ہے ۔ اس اعتبار سے جنرل ضیاء الحق اور ڈاکٹر نجیب اللہ دونوں کا کیس، باعتبار نوعیت تقریباً یکساں ہے۔ ضیاء الحق امریکہ نواز پالیسی پر کار بند تھے ، اس لیے وہ امریکہ کے مطلوب شخص بن گئے ۔ اس کے برعکس نجیب اللہ روس نواز پالیسی پر عامل ہیں ، اس لیے وہ روس کے مطلوب شخص بنے ہوئے ہیں ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نفسیات بھی بڑی عجیب ہے ۔ امریکہ ظالم اسرائیل کی حمایت کر کے مسلم دنیا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پیدا کیے ہوئے ہے۔ ضیاء الحق اسی امریکہ کے حامی بن جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ضیاء الحق کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے اکابر ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page