Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 506

By Maulana Wahiduddin Khan

کو مجاہد اسلام کا ٹائٹل عطا کریں۔ دوسری طرف نجیب اللہ اشتراکی روس کے حامی بنتے ہیں تو ان کے حصہ میں یہ بدقسمتی آتی ہے کہ اکابر ملت ان کو غدار کے لقب سے نوازتے ہیں۔ ایک دیندار سلمان سے پاکستان کے الیکشن (نومبر ۱۹۸۸ء) کے بارہ میں گفتگو ہوئی جس میں اسلامی اتحاد کو شکست دے کر بے نظیر بھٹو نے کامیابی حاصل کی ہے ، اور اب وہ کسی مسلم ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم کی حیثیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ مذکورہ سلمان نے اس پر اپنے درد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”سقوط خلافت کے بعد یہ مسلم دنیا کے لیے دوسرا سب سے بڑا حادثہ ہے “ میں نے کہا کہ ایک لفظی ترمیم کے ساتھ سمجھے آپ کے تبصرہ سے اتفاق ہے۔ وہ یہ کہ ــــــــــــ سقوط خلافت کے بعد یہ مسلم دنیا کے لیے دوسرا سب سے بڑا سبق ہے ۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد ترک خلافت کی حمایت میں جو ہنگامہ خیز تحریک چلائی گئی، وہ گویا دیمک زدہ لکڑی پر ”ملٹی اسٹوری بلڈنگ “ کھڑا کرنے کی کوشش تھی ۔ چنانچہ عین فطری قانون کے مطابق وہ ناکام ہو گئی۔ اسی طرح پاکستان میں اسلامائزیشن کا ساڑھے گیارہ سالہ فوجی عمل کیا گیا۔ وہ بھی گویا بیج ڈالے بغیر سپاوٹڑے کے ذریعہ فصل کاٹنے کی کوشش تھی جو دوبارہ خود فطری قانون کے تحت بے فائدہ ثابت ہوئی۔ پیغمبرانہ طریقہ تزکیہ اور تدریج کا طریقہ ہے۔ یعنی پہلے ذہن بنایا جائے، اس کے بعد دھیرے دھیرے عملی احکام کا نفاذ کیا جائے ۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر حالات پیدا کیے بغیر نہ بین اقوامی اسلامی خلافت قائم ہو سکتی اور نہ قومی اسلامی حکومت۔ مگر مسلم رہنماؤں نے یہ اصلی اسلامی سبق نہ پہلے لیا اور نہ اب وہ ایسا سبق لے رہے ہیں۔ جس واقعہ سے سبق کی غذا حاصل کرنا تھا، اس کو وہ ماتم سرائی کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں ۔ امریکہ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے دہلی میں میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی۔ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں پر مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ بے قیمت ہے تو وہ ہندوستانی سلمان ہے ، مگر امریکہ کے سفر میں مجھ کو معلومات حاصل ہوئیں، اس کے بعد اندازہ ہوا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان آج سونے اور چاندی سے بھی زیادہ قیمتی حیثیت رکھتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page