Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

یمن کا سفر

Urdu book, p. 507

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں مجھے معلوم ہوا کہ جو مسلم قائدین ہندوستان میں " مسلمان خطرہ میں " والی سیاست کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں ۔ وہ دراصل ہندوستانی مسلمانوں کی لاشوں کے بہت بڑے تاجر ہیں ۔ یہ لوگ امریکہ میں داد اور اسی طرح دوسرے دولت مند ملکوں میں ) جاتے ہیں اور وہاں مسلمانوں کے اور ظلم کی داستانیں بتا کر بہت بڑی بڑی رقمیں حاصل کرتے ہیں ۔ ہندوستان کے اور دوسرے ملکوں کے مسلمان جو یہاں کافی دولت کما رہے ہیں ، ظلم اور تعصب کی داستانیں سن کر ان کے اندر قومی ہمدردی کا جذبہ جاگتا ہے ، اور وہ مختلف طریقوں سے بڑی مقدار میں رقمیں جمع کر کے ان نام نہاد قائدین کو یہ دیتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قائدین لاشوں کے تاجر ہیں ، اگر چہ نادان لوگ ان کو اپنا نجات دہندہ سمجھے ہوئے ہیں ۔ امریکی معاشرہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تقریباً ہر آدمی مقروض ہوتا ہے۔ کار، مکان اور اس طرح کی دوسری قیمتی چیزیں عام بینکوں سے سودی قرض لے کر حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ مرض محدود آمدنی والے بھی لیتے ہیں اور زیادہ آمدنی والے بھی۔ محدود آمدنی والوں کے لیے وہ ایک ضرورت ہے۔ عام طور پر لوگ اپنا خرچ بڑھائے رہتے ہیں۔ اس لیے وہ رقم پس انداز نہیں کر پاتے اور قیمتی چیزیں حاصل کرنے کے لیے انھیں بینکوں کی مدد لینی پڑتی ہے۔ تاہم بزنس والے لوگ جن کی آمدنی زیادہ ہوتی ہے، وہ بھی تقریباً صدی صد مکانات قرض پر حاصل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر کمال کامل عبدالحمید (مزید پیدائش ۱۹۳۷ء) ایک فلسطینی عرب ہیں ۔ وہ تقریباً دس سال سے امریکہ میں ہیں۔ آج کل وہ سعودی اکیڈمی (واشنگٹن) میں کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے امریکی مسلمانوں کے بارہ میں کئی سال تک ریسرچ کی ہے اور اس موضوع پر وسیع معلومات رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کولمبس سے بہت پہلے دسویں صدی عیسوی میں اسپین کے آٹھ مسلمان امریکہ کے جنوبی ساحل پر اتر چکے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ آج تو یہاں بسنے والے عرب خاندان اپنی عربی زبان بھول چکے ہیں۔ ان کی بیشتر تعداد نے عیسائی عورتوں سے شادیاں کر لی ہیں۔ مگر ان کو ایک بوڑھی عرب خاتون نے بتایا کہ میرے والد ۱۸۸۵ء میں امریکہ آنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے ۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا امریکہ میں مسجد ہے ۔ کشتی والوں نے بتایا کہ نہیں۔ وہ ایسے کافر ملک میں جانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور فوراً کشتی سے اتر آئے (خشى ان يُهاجر إلى بلاد الكفر تلك واسرع بمغادرة القارب علی الفور)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page