Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

لڑتے رہیں ۔ وہ یہاں کے عیسائیوں کو دین خدا کا مدعو نہ بنا سکے ۔ البتہ اپنی ناکام سیاست کے ذریعہ انہوں نے یہاں کے عیسائیوں کو اپنا قومی حریف ضرور بنا لیا ہے ۔ ۱۵ ستمبر کو ہم جدہ پہنچے ۔ یہاں کے ہوائی اڈہ پر بڑا سخت مرحلہ پیش آیا ۔ ہم چیکنگ کے مقام پر پہنچے تو میدان حشر کا منظر تھا۔ بے رحم چہرے کھڑے ہوئے لوگوں کے سامان کی بری طرح تفتیش کر رہے تھے ۔ جس چیز کو چاہتے توڑ دیتے ، جس چیز کو چاہتے اٹھا کر اپنے پیچھے رکھے ہوئے بڑے بڑے ٹب میں ڈال دیتے ۔ بالآخر میری باری آئی ۔ میرے پاس کپڑے اور قلم اور مسواک جیسی چند چیزیں تھیں ۔ البتہ کاغذات کا کافی ذخیرہ تھا ۔ یہ مختلف مضامین اور تاثرات تھے جو میں پچھلے ایک مہینے کے سفر میں لکھتا رہا تھا ۔ چیکنگ پوسٹ پر کھڑے ہوتے آدمی نے بے رحمی کے ساتھ تمام کاغذات کو پیٹ کر فاتحانہ انداز سے اپنے قبضہ میں لے لیا ۔ میری ہر اپیل اس کے لئے قطعاً غیر مؤثر ثابت ہو رہی تھی ۔ غیر مطبوعہ مضامین کی اس طرح بربادی میرے لئے ناقابل برداشت تھی ۔ اپنی اس بے بسی کو دیکھ کر میں انہیار عصبی کے مرحلہ کو پہنچنے والا تھا کہ اچانک ایک معجزہ پیش آیا ۔ ہوائی اڈہ کے اسٹاف کا ایک عرب نوجوان وہاں آگیا ۔ اس نے میرے بکس پر میرا نام اور پتہ دیکھا اور بولا : هل انت وحید الدین خان ، صاحب الاسلام فتحیدے ۔ میں نے کہا۔ نعم ۔ اس کے بعد اس نے فوراً مذکورہ آدمی سے کہا ؛ ان کو میں جانتا ہوں ۔ یہ بہت خاص آدمی ہیں ، انہیں چھوڑ دو ۔ اس کے بعد آدمی نے میرے تمام کاغذات میرے حوالے کردے اور میری جان میں جان آئی ۔ یہ صورت حال در اصل اس تخریبی سیاست کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے جس میں بہت سی نام نہاد اسلامی جماعتیں اور اسلامی حکومتیں شریک ہیں ۔ یہ لوگ اپنے ہم قوموں اور مسلم حکمرانوں کے خلاف تخریبی کارروائیوں میں سرگرم ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ باہر سے آنے والوں کے بارے میں انتہائی حد تک شکی ہو گیا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص باہر سے آرہا ہے وہ کسی سازشی منصوبہ کا جز ہے ۔ اس کے پاس اگر کوئی بیگ ہے تو وہ اس لئے ہے کہ اس میں وہ ہتھیار چھپا کر لائے ۔ اس کے پاس اگر کچھ کاغذات ہیں تو وہ یقیناً کوئی باغیانہ لٹریچر ہے جو ان کے ملک میں باہر سے در آمد کیا جارہا ہے ۔ اسلام کے نام پر جاری ہونے والی اس تخریبی سیاست نے اسلام یا مسلمانوں کو کوئی فائدہ تو نہیں پہنچایا البتہ ان کو نئے نئے عذاب میں یقیناً مبتلا کر دیا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page