Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

حج کا سفر

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

جب کہ میں نے حج کیا۔ اصل یہ ہے کہ عربوں میں بند ڈبہ کی مشروبات پینے کا بہت رواج ہے۔ سڑکوں پر جگہ جگہ لڑکے بالیوں میں بند ڈبہ کی مشروبات بھرے ہوئے فروخت کرتے رہتے ہیں اور لوگ انہیں لے لے کر پیتے رہتے ہیں۔ ان ڈبوں میں ایسے ڈبے بھی ہوتے ہیں جن پر موٹے حروف میں شراب لکھا ہوا ہوتا ہے ۔ شراب کا لفظ موجودہ عربی میں مشروب (drink) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، ان ڈبوں میں پھلوں کے رس طبی طور پر تیار کئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ بعض ڈبوں میں ایک سے زیادہ چیزوں کے رس ہوتے ہیں ان پر لکھا ہوا ہوتا ہے شراب فوا کہ مشکله (mixed nectar) ۔ جس چیز کو ہندوستان میں شراب کہا جاتا ہے اس کو عربی میں خمر کہتے ہیں ۔ ۱۴۰۲ ھ کا حج ستمبر ۱۹۸۲ میں پڑا ۔ اس موقع پر تمام دنیا کے مسلمان تقریباً ۲۵ لاکھ کی تعداد میں حرمین کے علاقہ میں جمع ہوئے ۔ خوش قسمتی سے میں بھی حج کے اس عالمی اجتماع میں شریک تھا ۔ اس موقع پر سب سے زیادہ عجیب چیز جو میں نے دیکھی وہ یہ کہ ان مسلمانوں کے چہروں یا ان کی سرگرمیوں پر اس تازہ حادثہ کا کوئی اثر نہ تھا جو عین انہی دنوں میں فلسطینیوں کے ساتھ لبنان میں پیش آیا ۔ تمام دنیا کے مسلم اخبارات وجرائد ان دنوں اسرائیلی مظالم کی داستانوں سے بھرے ہوئے تھے ۔ مگر حج کیلئے جمع ہونے والے مسلمانوں پر بظاہر اس کا کوئی اثر نہیں دکھائی دیتا تھا ۔ وہ بدستور ہنس رہے تھے ۔ ان کے چہرے بدستور غفلت اور بے حسی کا نشان بنے ہوئے تھے ۔ مکہ اور مدینہ کے بازاروں میں خرید و فروخت کی چہل پہل بدستور اسی طرح جاری تھی جیسے ہر سال ان دنوں یہاں جاری رہتی ہے ۔ یہ حج ایسے وقت میں پڑا جو بلا شبہ مسلمانوں کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کا سب سے زیادہ نازک وقت تھا ۔ ایک ایسی قوم جس کو ہم مردود اور مغضوب سمجھتے ہیں اس نے ایک ایسے مسئلہ میں مسلمانوں کو بدترین شکست دی جس کے معاملہ میں تمام دنیا کے مسلمان بلا اختلاف ہم آواز ہیں ۔ یہودیوں نے زبردستی فلسطین پر قبضہ کیا ۔ اپنے علاقہ کو کئی گنا حد تک بڑھا لیا ۔ فلسطینیوں کو نہ صرف ان کے وطن سے بلکہ اطراف کے تمام علاقوں سے نکلنے پر مجبور کیا۔ ان کی آخری سرحدی قیام گاہ لبنان تھی ، یہاں بھی اس نے مسلسل بمباری کے ذریعہ فلسطینیوں کو اس قدر تباہ و برباد کیا کہ وہ اس پر راضی ہو گئے کہ لبنان میں اپنے ہتھیاروں کو چھوڑ کر دور کے علاقوں میں چلے جائیں ۔ چند سال پہلے تک دنیا کا کوئی مسلمان اسرائیل کا وجود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page