Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ وہ ۱۹۶۰ میں آزاد ہوا ۔ اس سے پہلے وہ فرانس کے قبضہ میں تھا ۔ اس کے اثر سے اب بھی سینیگال کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے ۔ سینیںگال در اصل یہاں کے سرحدی دریا کا نام ہے جو ۱۰۱۵ میل لمبا ہے ۔ اہل یورپ تک اس کا تعارف سونے کا دریا (River of Gold) کی حیثیت سے پہنچا ۔ ۱۶ ویں صدی سے لے کر ۲۰ ویں صدی تک یہی دریا فرانس کے نو آبادیاتی اثرات کو سینیںگال تک پہنچانے کا ذریعہ بنا رہا ۔ سینیںگال مغربی افریقہ کا ساحلی ملک ہے ۔ عربوں نے اس کو ابتدائی دوریں کامیابی کے ساتھ فتح کیا اور اس علاقہ کی تجارت پر قابض ہو گئے ۔ ایک مورخ نے لکھا ہے کہ نویں صدی اور چودھویں صدی عیسوی کے درمیان عرب دنیا میں جغرافیہ دانی اور تاریخ دانی کو کافی فروغ ہوا ۔ اس سے عربوں کو اس علاقہ کے بارہ میں مفصل معلومات حاصل ہوئیں جس کو وہ بلاد السودان کہتے تھے : The lively school of geographers and historians that flourished in the Arab world from about the 9th to the 14th century thus secured access to growing amounts of information about what they called the biladas- sudan, the territory of the Negro peoples south of the Sahara. (19/761) اسلام جب اپنی صحیح صورت میں زندہ ہوتا ہے تو وہ صرف معروف مذہبی پہلوؤں کو زندہ نہیں کرتا بلکہ اسی کے ساتھ وہ انسانیت کے تمام ضروری پہلوؤں کو بھی زندہ کر دیتا ہے ۔ ویسٹ انڈیز اور امریکہ کی دریافت کے بعد وہاں زراعت کا کام بڑھا ۔ وہاں زمینیں تھیں مگر انسان نہ تھے ۔ اس لئے زرعی مزدور کے طور پر غلاموں کی تجارت میں زبردست اضافہ ہوا ۔ ۱۸۷۰ اور اس کے بعد کے سالوں میں تقریباً .... ۲ غلام ہر سال افریقہ سے لے جا کر وہ ویسٹ انڈیز اور امریکہ کے ساحل پر اتارے جا رہے تھے (19/768) غلاموں کی اس تجارت کو جس چیز نے ختم کیا وہ مشین کی ایجاد ہے ۔ بعد کو جب زرعی مشینیں تیار ہو گئیں تو انسانی مزدوروں کی ضرورت اپنے آپ ختم ہو گئی ۔ بعض اوقات کسی برائی کو ختم کرنے کے لئے صرف اخلاقی تبلیغ کافی نہیں ہوتی ۔ بلکہ یہ ضرورت ہوتی ہے کہ مروجہ برائی کی اقتصادی یا سیاسی اہمیت کو ختم کر دیا جائے ۔ اس کے بعد وہ برائی اسی طرح ختم ہو جائے گی جس طرح کسی زندہ چیز سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page