ایک سفر
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
اہمية بمكان عظيما و يتوجب على كل مسلم غيور ان يتعرف على ما جاء فيه (صفحه ۷۱) الرساله مشن کی جتنی مخالفت کی گئی، اتنی شاید موجودہ زمانہ میں کسی بھی تحریک کی مخالفت نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود یہ اللہ کا فضل ہے کہ یہ مشن ہندوستان، پاکستان، عرب ممالک اور مغربی ممالک میں پھیل گیا۔ اور اب انشاء اللہ کسی کی مخالفت اس فکر میں سیلاب کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ڈاکٹر اسماعیل عبد الحلیم ملائیشیا (سلانگور) کے رہنے والے ہیں۔ اس وقت وہ لندن میں ایک کالج سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں جولائی ۱۹۹۰ میں اپنے وطن واپس چلا جاؤں گا۔ ہمارے یہاں حکومت میں امور مذہبی کا ایک شعبہ ہے۔ اس میں مجھے کام کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں مجھے مشورہ دیجئے کہ ملایزیا پہنچ کر میں کس طرح مسلمانوں کی اسلامی تعلیم و تربیت کا کام کروں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ایک صورت یہ ہے کہ مسلمانوں میں زکوۃ کا نظام رائج کیا جائے ۔ میں نے کہا کہ آپ زکوۃ کے نفاذ سے اپنے کام کا آغاز نہ کریں۔ یہ طریقہ ضیاء الحق صاحب کے زمانہ میں پاکستان میں ناکام ہو چکا ہے۔ موجودہ صورت میں زکوۃ ایک مسلمان کو دہرا ٹیکس معلوم ہوتی ہے۔ پھر وہ کیسے اس پر راضی ہو سکتا ہے۔ اس کے جواب میں انھوں نے جو کچھ کہا وہ میرے لئے نئی بات تھی۔ انھوں نے کہا کہ ملایزیا میں زکوۃ کی ادا شدہ رقم کو ملکی ٹیکس میں محسوب کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے وہاں دہرا ٹیکس کی صورت نہیں پیدا ہوتی : المسلم فى ماليزيا عليه ان يدفع ضريبة الدخل السنوى وزكاة المال اذا كان غنيا۔ واذا دفع المسلم زكوة المال التي عليه فله الحق قانونيا أن يقول للحكومة عليك ان تحسب هذا المبلغ الذي دفعته باسم الزكاة، هو في حد ذاته جزء من ضريبة الدخل حتى۔ حسب پروگرام ۷ مئی کی شام کو کانفرنس کا افتتاح ہوا ۔ یہ افتتاح صدر مملکت عبدہ یوسف نے کیا۔ یہ پروگرام یہاں کے سب سے بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ کثیر تعداد میں لوگ ہال کے باہر موجود تھے۔ یہاں اکثر پروگراموں میں میں نے دیکھا کہ عوام ہزاروں کی تعداد میں اکٹھا ہیں۔ عام طور پر اس طرح کی کانفرنسوں میں محدود تعداد میں صرف علماء اور دانشور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader