Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

شریک ہوتے ہیں۔ مگر یہاں عوامی شمولیت کا منظر نظر آیا۔ میں نے سنا تھا کہ صدر عبدہ ضیوف افریقہ کے سب سے زیادہ لمبے آدمی ہیں۔ میرے ذہن میں ان کی تصویر یہ کچھ اس طرح تھی کہ وہ جب آئیں گے تو تمام شرکا، باعتبار قد چھوٹے نظر آنے لگیں گے۔ ان کا قد کچھ لمبا ضرور ہے۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے قد کے بارے میں جو شہرت ہے وہ ”بڑھا ہی دیتے ہیں کچھ زیب داستان کے لئے“ کے اصول کے تحت عمل میں آئی ہے۔ افتتاح رسمی انداز کا تھا۔ تاہم اس کی ایک چیز نے مجھ کو بہت متاثر کیا۔ اس افتتاح میں قرآن کی تلاوت ایک افریقی بچہ نے کی۔ اس کی عمر گیارہ سال تھی اور اس کا نام علی حمزہ ازم تھا۔ بظاہر دیکھنے میں اس کا چہرہ اور اس کی شخصیت نہایت غیر جاذب تھی۔ مگر اس نے جب قرآن کی تلاوت کی تو وہ اتنی مؤثر تھی کہ آنکھوں میں آنسو نکل آئے۔ میں نے سوچا کہ قرآن کی صورت میں مسلمانوں کو کتنی بڑی طاقت حاصل ہے۔ قرآن کے ذریعہ ایک بے حقیقت آدمی اپنے کو باحقیقت بنا سکتا ہے۔ کانفرنس کے ایجنڈے میں دو چیزیں میری خاص دلچسپی کی تھیں : الدعوة الاسلامية ومتغيرات العصر المستجدات والتطورات في العالم والعالم الاسلامی اس موضوع پر لوگوں نے جو اظہار خیال کیا، اس سے اندازہ ہوا کہ لوگوں کے ذہنوں پر زیادہ تر سیاسی تبدیلیوں یا سیاسی نوعیت کے واقعات کا اثر ہے۔ مثلاً یہ کہ روس اور امریکہ (سپر پاوریں) نے آپس میں مفاہمت کرلی ہے۔ اس کے نتیجہ میں عالمی سیاست میں زبردست قسم کی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ بہت سے ممالک جن کو امریکہ اپنی سرپرستی میں لئے ہوئے تھا، تاکہ ان کوروسی نفوذ سے بچا سکے، اب اس نے ان سے اپنی سرپرستی واپس لے لی ہے۔ کیوں کہ نئی پالیسی نے سرد جنگ یا گرم جنگ کا خاتمہ کر دیا۔ اسی میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ امریکہ جو اس سے پہلے مجاہدین کی زبردست مدد کر رہا تھا۔ اب اس نے اپنی مدد روک دی ہے۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر نجیب حکومت کے خلاف افغانی مجاہدین کی مہم اچانک بے اثر ہو کر رہ گئی ہے۔ شرکا کی طرف سے اس قسم کے بہت سے مسائل کا ذکر کیا گیا۔ میں نے کہا کہ بلاشبہ نئے حالات نے کچھ نئے سیاسی مسائل مسلمانوں کے لئے پیدا کئے ہیں۔ مگر اس کا اس سے بھی زیادہ بڑا پہلو یہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page