ایک سفر
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
صبح کو ۹ بجے دکار سے تو اون کے لئے قافلہ کی صورت میں روانگی ہوئی۔ سڑک نہایت عمدہ اور ر کشادہ تھی۔ اس کا بیشتر حصہ سمندر (البحر المحیط) کے کنارے کنارے گزرتا ہے۔ درمیان میں بعض گاؤں دکھائی دئیے۔ مکانات معمولی انداز میں بنائے گئے تھے۔ پختہ تعمیرات زیادہ تر قدیم فرانسیسی طرز کی نظر آئیں۔ درمیان میں ایک تعلیمی ادارہ دار العلوم، دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے بورڈ پر اس کا نام معہد الازہر للدرسات الاسلامیہ (511554 .Tel) لکھا ہوا تھا۔ ہم لوگ اس کے اندر گئے۔ اس کے کئی درجات دیکھے۔ کلاس کی صورت اسکولوں کی مانند تھی۔ ایک طرف دیوار کالی کر کے اس کو بلیک بورڈ کی صورت دی گئی تھی۔ یہاں استاد کھڑا ہوا تھا۔ سامنے ڈسک پر طلبہ بیٹھے ہوئے تھے۔ استاد عربی زبان میں لکچر کے انداز میں انھیں پڑھا رہا تھا۔ یہ طریقہ مجھے پسند آیا۔ ہندوستان میں کثرت سے عربی مدارس قائم ہیں۔ مگر ان میں ذریعہ تعلیم اردو رکھا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آدمی عربی مدرسہ سے فارغ ہو جاتا ہے مگر عربی بولنے کی صلاحیت اس کے اندر پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے بعد ہم تو اون پہنچے۔ یہاں خلیفہ الحاج عبد العزیز سی سے ملاقات ہوئی۔ یہ اندازہ ہوا کہ انھیں عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔ آج ان کی اپیل پر بے شمار لوگ کانفرنس کے شرکاء کے استقبال کے لئے نکل پڑے تھے۔ اس سے پہلے دکار کے اجتماع میں میں نے دیکھا کہ وہاں خلیفہ کے نمائندہ نے تقریر کی اور پریزیڈنٹ نے تقریر کی۔ مگر خلیفہ کے نمائندہ نے جب خلیفہ کا ذکر کیا تو ان کے لئے پریزیڈنٹ سے بھی زیادہ تالیاں بجائی گئیں۔ یہاں کے سیاسی لیڈر اس راز کو سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ مذہبی رہنماؤں کو بالکل نہیں چھیڑتے۔ وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ شاہ ایران نے اسی معاملہ میں غلطی کی اور اس کی قیمت اسے یہ دینی پڑی کہ اس کا اقتدار ایران سے ختم ہو گیا۔ شاہ ایران کو جس چیز نے ختم کیا وہ خود شاہ کے غیر حکیمانہ اقدامات تھے، اور سینینگال کے سیاسی لیڈران غلطی سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بچائے ہوئے ہیں۔ تو اون کا اجتماع الحاج عبد العزیز سی کی موجودگی میں ہوا۔ یہاں پریزیڈنٹ کا ایک نمائندہ بھی موجود تھا۔ اس نے ایک سے زیادہ بار یہ جملہ دہرایا : ذالك ببركة دعوات اسلافنا الكرام۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader