Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی یہ مشترک صفت ہے کہ وہ اپنے ملکوں کے شاکی رہتے ہیں۔ مگر یہی لوگ باہر کے ملکوں میں جاکر نہایت کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ مثلاً پاکستان اور ہندوستان کے لوگ اپنے اپنے ملکوں میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہاں ظلم اور فساد ہے۔ مگر یہی لوگ مغرب میں یا خلیج کے ملکوں میں پہنچتے ہی ایک کامیاب زندگی حاصل کرلیتے ہیں۔ اسی طرح مصر اور شام کے اسلام پسند اپنے ملکوں میں اپنی حکومت سے ٹکراؤ کے سوا کوئی اور کام نہیں جانتے۔ مگر یہی لوگ سعودی عرب اور کویت میں آسودہ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کا راز ایک لفظ میں ایڈجسٹمنٹ ہے۔ یہ لوگ اپنے ملکوں میں ایڈ جسٹمنٹ نہیں کرتے، اس لئے وہ اپنے ملک میں ناکام رہتے ہیں۔ اور دوسرے ملک میں ، مجبوراً نہ طور پر نہ کہ شعوری طور پر، ایڈ جسٹمنٹ کر لیتے ہیں ۔ اس لئے وہ وہاں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ملکوں میں " مجاہد " ہیں اور دوسرے ملکوں میں "بزدل "۔ اگر وہ اپنے ملکوں میں اسی طرح " بزدل " بن جائیں جس طرح وہ باہر کے ملکوں میں بنے ہوئے ہیں تو وہ خود اپنے ملک میں بھی وہ ساری کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں جو وہ باہر کے ملک میں حاصل کر رہے ہیں۔ اس صورت حال کا اصل نقصان عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کیوں کہ یہ باہر جانے والے ذہین لوگ اپنی زبان سے یہ اعلان نہیں کرتے کہ تجربہ کے بعد ہم نے اپنی پالیسی بدل لی ہے، اسی طرح تم بھی بدل لو۔ چنانچہ عملاً یہ ہورہا ہے کہ ان تمام نام نہاد محب ہادین کے لکھے یا بولے ہوئے الفاظ کی بنا پر ان کے ملکوں کے لوگ برابر مصیبتیں اٹھارہے ہیں۔ اور وہ خود باہر کے ملک میں اپنے الفاظ کو عملاً ترک کرکے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا مستقبل تعمیر کر رہے ہیں۔ یہ سب سے بڑی برائی ہے جو موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان جاری ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اس برائی کو جاری کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کو بے خبر عوام نے برائی مٹانے کا کریڈٹ دے رکھا ہے۔ ایک صاحب کے سوال پر میں نے یہ بات کہی۔ ایک صاحب نے گفتگو کے دوران کہا کہ اسلامی دنیا کو ہمارے دشمنوں نے پارہ پارہ کر دیا ہے (ان العالم الاسلامی مزقه اعداؤنا) . امتی کی شام کو موت ختم ہوگئی۔ اس کے بعد پریس کانفرنس ہوئی۔ اس میں سنیگال کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page