Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 123

By Maulana Wahiduddin Khan

اخباری نمائندے جمع ہوئے اور سوال و جواب کے انداز میں گفتگو ہوئی۔ مگر پریس کے نمائندوں نے جو سوالات کئے، وہ زیادہ تر سطحی نوعیت کے تھے۔ ایک صحافی نے یہ سوال کیا کہ کانفرنس نے سلمان رشدی کے بارہ میں کوئی تجویز پاس نہیں کی۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس سوال و جواب کو سن کر مجھے احساس ہوا کہ اس وقت پوری ملت اسلام قولِ بلافعل کی سطح پر ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ہر مسلمان اس بات کو ثابت کرنے پر اپنے آخری الفاظ خرچ کر دینا چاہتا ہے کہ سلمان رشدی واجب القتل ہے۔ حتیٰ کہ وہ اس قابل ہے کہ کوئی بھی شخص اس پرتابلو حاصل کرکے اس کو قتل کردے۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ہر شخص قتل کی بات کرتا ہے مگر کوئی شخص قتل کرنے کے لئے نہیں اٹھتا۔ حتیٰ کہ ایران کی حکومت نے ایک سال پہلے اعلان کیا تھا کہ سلمان رشدی کے قتل کے لئے ایک اسکویڈ روانہ کردیا گیا ہے۔ مگر آج تک معلوم نہ ہوسکا کہ وہ اسکویڈ کہاں گیا۔ ہندوستان پاکستان یا کسی بھی ملک کے کسی مسلم دانشور یا عالم نے ایسا نہیں کیا کہ وہ خود انگلینڈ جائے یا اپنے صاحبزادہ کو وہاں بھیجے اور پھر وہ یا تو سلمان رشدی کو مارنے میں کامیاب ہو یا اسی راہ میں اپنی جان دیدے۔ حقیقت یہ ہے کہ سلمان رشدی کے واقعہ نے سلمان رشدی سے زیادہ خود موجودہ زمانہ کے لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سلمان رشدی کی کتاب نے اگر سلمان رشدی کو شتم رسول کا مجرم ثابت کیا ہے تو مسلم لکھنے اور بولنے والوں کو قولِ بلافعل کا مجرم ثابت کیا ہے۔ اور دوسرا جرم یقیناً پہلے جرم سے کسی طرح کم نہیں۔ اس سفر کے دوران مجھے ایک عرب ملک کی مطبوعہ رپورٹ (۱۹۸۹) دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس میں نام بنام دکھایا گیا تھا کہ کس ملک کو کس مد میں کتنی رقم دی گئی۔ ہندوستان کے عنوان کے تحت اس رپورٹ میں حسب ذیل الفاظ درج تھے: الهند: لجنة تعمير المساجد، لاصلاح المساجد المتضررة من الزلازل 20,000$ اس اندراج کے مطابق، ہندوستان میں تعمیر مساجد کے لئے ایک ادارہ قائم ہے۔ اس نے ۲۰ ہزار ڈالر لان مساجد کی مرمت کے لئے حاصل کیا ہے جن کو ززلوں سے نقصان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page