ایک سفر
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
پہنچا ہے۔ یہ پڑھ کر مجھے سخت حیرت ہوئی ۔ "لجنہ تعمیر المساجد" کے نام سے کوئی معروف ادارہ ہندوستان میں موجود نہیں۔ اور اگر بالفرض "اسٹیمپ اور لیٹر پیڈ" کی سطح پر ایسا کوئی ادارہ کہیں موجود ہو تب بھی غالبأ ۱۹۸۹ میں یا اس سے پہلے کے قریبی سال میں ہندوستان میں کوئی ایسا زلزلہ نہیں آیا جس میں مسجدوں کو نقصان پہنچا ہو اور اس کی ضرورت پیش آئی ہو کہ باہر سے رقم لاکر ان کی مرمت کرائی جائے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کے کچھ لوگ کتنے برے انداز میں عرب ملکوں کے جذبہ انفاق کا استحصال کر رہے ہیں۔ عبد المغنی شمس الدین (عمر ۶۴ سال ، کوالالمپور، ملائیشیا) سے آئے تھے۔ وہ اخوانی تحریک سے متاثر ہیں۔ جامعہ ازہر کے پڑھے ہوئے ہیں، اس لئے عربی روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ الاخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کی مشترک غلطی یہ ہے کہ وہ اختتام سے آغاز کرنا چاہتے ہیں، وہ آغاز سے اپنے عمل کی ابتدا کرنا نہیں چاہتے، یہی وجہ ہے کہ وہ لفظی شور وغل اور بے فائدہ ٹکراؤ کے سوا امت کو کوئی اور چیز نہیں دے سکے۔ وہ ہر جگہ "نظام" کو توڑنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ لوگوں کے مزاج اور طرز فکر کو بدلا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ مگر فکر بدلنے کے تمام بڑے بڑے ذرائع (اسکول، ریڈیو، ٹیلیویژن، اخبارات وغیرہ) سب حکومت کے قبضہ میں ہوتے ہیں۔ پھر حکومت کو بدلے بغیر طرز فکر کو بدلنے کا کام کیسے کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک زبردست مغالطہ ہے جس میں موجودہ مسلم مفکرین پچھلی نصف صدی سے مبتلا ہیں۔ حالانکہ واقعات نے اس کا بے معنی ہونا آخری طور پر ثابت کر دیا ہے۔ میں نے کہا کہ جنرل محمد ضیاء الحق کو پاکستان میں مکمل اقتدار ملا۔ اور سید ابو الاعلیٰ مودودی سمیت تمام اسلام پسند لوگوں نے ان کی تائید کی۔ ضیاء الحق صاحب ساڑھے گیارہ سال تک، آپ کے الفاظ میں، فکر بنانے والے تمام اداروں پر مکمل قبضہ کر کے اس کو افکار بدلنے کے لئے استعمال کرتے رہے۔ حتیٰ کہ انھوں نے جماعت اسلامی کے افراد کو ان شعبوں کا چارج دیدیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader