Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر ساڑھے گیارہ سال کی کوشش کے باوجود ادنی درجے میں بھی لوگوں کی فکر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آج پاکستان کا ذہن پہلے سے بھی زیادہ بگڑا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ ضیاء الحق صاحب کی موت کے فوراً بعد جو عوامی الیکشن ہوا، اس میں پاکستان کے عوام نے ضیاء الحق کے دور کے تمام افراد کے خلاف ووٹ دے کر انھیں ہرا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دورِ اول کے مسلمانوں نے متفقہ طور پر حضرت ابو بکر صدیق کو خلیفہ بنایا۔ اس کا نام ذہن کی تبدیلی ہے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدینہ کے لوگ عبد اللہ بن ابی جیسے کسی شخص کو اپنا حکمران بنا لیتے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک وہاں کے لوگوں کے ذہن کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ بدقسمتی سے یہی صورتِ ضیاء الحق صاحب کے بعد ہونے والے انتخابات میں پیش آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعمیرِ نو کا کام ایک خالص غیر سیاسی کام ہے۔ وہ حکومتِ اقتدار کے باہر انجام دیا جاتا ہے نہ کہ حکومت و اقتدار کے اندر۔ ۱۰ مئی کی صبح کو ہمارا قافلہ طوبٰی (Touba) کے لئے روانہ ہوا۔ وہاں سینگال کے سب سے بڑے صوفی رہتے ہیں۔ ان کا نام شیخ عبد القادر مہاقی (M'Backe) ہے۔ وہ طائفہ مرید یہ کے پیر ہیں۔ اس حلقہ کو احمد بامبانے قائم کیا تھا۔ ان کی رہائش گاہ کے دروازہ پر مسکن الشیخ الخدیم کُھ ہوا تھا۔ بزرگ اپنے لباس اور حلیہ کے اعتبار سے اسی روایتنی انداز میں تھے جو ہندوستان - بزرگوں کا انداز ہے۔ مگر ان کا وسیع مرکز پورے معنوں میں "ماڈرن" تھا۔ میز، قالین، صوفہ، ٹیلی فون ، غرض ہر چیز موجود تھی۔ مجھے حمام (ٹائلٹ) میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ حمام خالص مغربی ط کا بنا ہوا تھا۔ جتنی دیر ہم لوگ شیخ کے پاس رہے، ٹیلی وزن کا عملہ مسلسل ہر چیز کو ریکارڈ کرتا رہا وسیع کمرہ ملاقات ٹھیک لکڑی کا منقش انداز میں بنایا گیا تھا۔ ایک بڑی کرسی بزرگ - لئے تھی جن کو یہاں الشیخ الاکبر کہا جاتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہ آئے۔ ایک بات نے خاص طور پر - سوچنے کا موقع دیا۔ وہ یہ کہ شیخ اپنی شخصیت (پرسنالٹی) کے اعتبار سے نہایت غیر جاذب تھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page