ایک سفر
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
معلوم ہوا کہ وہ امریکی ہیں ۔ ان کا نام کانریڈ (Conrad) تھا ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کمیونی کیشن انجینئر ہیں اور واشنگٹن میں رہتے ہیں ۔ کھانے کے وقت انھوں نے ریڈ وائن کا آرڈر دیا۔ یہاں سے گفتگو شروع ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ آپ شراب کیوں پیتے ہیں۔ تفریح کے لئے یا غذا کے لئے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں کے لئے۔ میں نے کہا کہ کچھ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شراب صحت کے لئے مضر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہر چیز کی زیادتی (excess) مضر ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ شراب ایک عادت ہے، اور جب کسی چیز کی عادت پڑ جائے تو آدمی ایسا نہیں کر پاتا کہ وہ ایک حد سے زیادہ اس کو استعمال نہ کر سکے۔ اس کے بعد میں نے پوچھا کہ آپ خدا اور مذاہب میں یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا نہیں۔ وجہ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ مذہب لوگوں کو آپس میں لڑاتا ہے۔ میں نے کہا کہ لڑائی کا تعلق مذہب سے نہیں۔ انھوں نے کہا : Why people kill each other in the name of God. میں نے کہا کہ مذہبی لوگ نہیں لڑتے بلکہ سیاسی لوگ مذہب کے نام پر لڑائی کرتے ہیں۔ وہ مذہبی لوگوں کی برائیاں بتاتے رہے۔ میں نے کہا کہ مذہبی لوگ اگر غلط کریں تو اس سے خدا کا عقیدہ غلط ثابت نہیں ہوتا۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ آپ ایک انجینئر ہیں۔ یہ بتائیے کہ اگر کچھ لوگ ایٹی تو توانائی کا غلط استعمال کریں تو کیا آپ ایٹی تو توانائی کے وجود کا انکار کر دیں گے۔ اس کے بعد ان کا لہجہ دھیما پڑ گیا۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کا مطلب سمجھ گیا۔ مگر میں خدا کے وجود کو نہیں مانتا۔ ڈیلی ٹیلی گراف میں ایک ہوائی حادثہ (air crash) کی رپورٹ درج تھی۔ پچھلے دن ایک ہوائی جہاز (737 Midland) انگلینڈ میں گر کر تباہ ہو گیا۔ ۴۴ آدمی مرگئے ۔ چند آدمی جو بچ گئے تھے۔ انھوں نے آخر وقت کی آنکھوں دیکھی کہانی بتائی۔ ایک بچے ہوئے مسافر نے کہا کہ آخر وقت میں جب کہ جہاز میں بیٹھے ہوئے تمام مسافر زندگی سے ناامید ہو چکے تھے، اس نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یسوع مسیح، اب ہم مرنے والے ہیں: Jesus, we are going to die.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader