Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سفر سوویت یونین میں گلاسنوسٹ (openness) کی پالیسی کے تحت حال میں کافی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ اس کے تحت روسی حکومت چاہتی ہے کہ بیرونی دنیا سے اپنے تعلقات بڑھائے۔ چنانچہ مختلف طبقہ کے لوگوں کو سوویت یونین جانے کے مواقع دئے جارہے ہیں۔ اسی میں سے یہ ہے کہ سوویت حکومت عالم اسلام کی مختلف شخصیتوں کو دعوت دے رہی ہے کہ وہ سوویت یونین جاکر اپنی آنکھ سے وہاں کے مسلمانوں کے حالات کو دیکھیں۔ مثلاً سعودی عرب کے شیخ محمد بن ناصر العبودی اسی سلسلہ میں روس جا چکے ہیں۔ چنانچہ سوویت حکومت نے مجھ کو بھی روس کے سفر کی دعوت دی۔ اس کے تحت جولائی۔ اگست ۱۹۹۰ میں سوویت یونین کا سفر ہوا۔ شیخ عبودی در رابطہ اسلامی ، مکہ) کی سرکردگی میں جو وفد پندرہ دن کے لئے سوویت یونین گیا تھا، اس نے وہاں کی مسلم جمہوریوں کا دورہ کیا۔ روسی مسلمانوں کے حالات اور ضرورتوں کا جائزہ لیا۔ اس نے روسی مسلمانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ اسلام کی راہ میں تنہا نہیں ہیں بلکہ دنیا کے دوسرے مسلمان ان کے ساتھ ہیں۔ وفد نے وہاں کی ان مسجدوں کا بھی جائزہ لیا جو حال میں واگذار کی گئی ہیں۔ اس نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان مسجدوں کی اصلاح و مرمت کافی ہے یا ان کو از سر نو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ روسی حکومت نے جن مقامات پر نئی مسجدوں کی تعمیر کی اجازت دی ہے، ان کے لئے مناسب زمین حاصل کرنے کی بابت ذمہ داروں سے گفتگو کی۔ روس میں اشتراکی انقلاب ۱۹۱۷ میں آیا جب کہ ابھی میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ تاہم سن شعور کو پہنچتے ہی اشتراکی روس کی باتیں میرے کان میں پڑنے لگیں۔ غالباً ۱۹۳۶ کا واقعہ ہے۔ میں اعظم گڑھ میں مولانا اقبال احمد سہیل (۱۹۵۵ - ۱۸۸۲) کے مکان پر تھا۔ گفتگو کے دوران سوویت روس کا ذکر آیا۔ انھوں نے خاندان کے ایک نوجوان کا نام لے کر کہا کہ ان کے کورس میں روسی زبان کا بھی ایک پر چہ ہے۔ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد امید ہے کہ وہ روس جائیں گے۔ پھر ان کے ذریعہ سے وہاں کی صحیح باتیں معلوم ہوں گی۔ مذکورہ نوجوان اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ تاہم وہ روس نہ جاسکے۔ سرکاری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page