Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ وہ زار کے زمانہ سے لے کر اب تک روسی سلطنت کا عظیم مرکز رہا ہے۔ 1956 تک اس کے اندر کوئی نہیں جا سکتا تھا۔ اس کے بعد خرو شچیوف نے اس کے دروازے عام لوگوں کے لئے کھول دئے۔ چنانچہ آج بھی ہزاروں آدمی اس کے اندر گھومتے ہوئے نظر آئے، ان میں ملکی اور غیر ملکی دونوں تھے، تاہم اس پرہیبت دنیا کی خصوصیات کو لفظوں میں بیان کرنا بے حد مشکل ہے۔ کر یملن کے اندر کئی قدیم چرچ بھی ہیں۔ زار بادشاہوں کا مذہب عیسائیت تھا۔ اس لئے انھوں نے کریملن میں، جو گویا ان کا قلعہ اور محل تھا، چرچ بھی بنوائے۔ ایک تاریخی چرچ کو اندر سے دیکھا اس میں پیتل کے بڑے بڑے تابوتوں میں قدیم روسی بادشاہوں کی لاشیں رکھی ہوئی ہیں۔ کریملن کے پورے علاقے میں حیرت انگیز حد تک صفائی موجود تھی۔ جب کہ وہاں ہم کو صفائی کرنے والے دکھائی نہیں دئے۔ صفائی کا محکمہ صبح کو صفائی کرتا ہوگا مگر اس کے بعد سارے دن اس کا صاف رہنا اس کے زائرین اور اس کے باشندوں کے نظم اور صفائی پسندی کا ثبوت ہے۔ کریملن کی تاریخی چیزوں میں ایک عظیم توپ ہے جو زار کے زمانہ میں بنائی گئی۔ اس کے بڑے بڑے گولے بھی اس کے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔ مگر یہ توپ کبھی استعمال نہیں ہوئی۔ اسی طرح ایک بہت بڑا لوہے کا گھنٹہ ہے جو چرچ کے لئے منقش انداز میں بنایا گیا تھا۔ وہ بھی عمارت کے اوپر لگایا نہ جا سکا۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح کتنے انسان ہیں جو دنیا میں آتے ہیں، مگر وہ یہاں اپنی حقیقی جگہ نہیں پاتے۔ وہ استعمال ہوئے بغیر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ کریملن کے ایک حصے میں لینن کا مقبرہ ہے۔ تاج محل میں جس کا پہلو نمایاں ہے گھر لینن کا مقبرہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس میں عظمت کا پہلو ابھرا ہوا نظر آتا ہے۔ ہم مقبرے کے سامنے پہنچے تو اس کے دروازہ کے باہر دو انسانی صورتیں اسٹیچو کی طرح کھڑی ہوئی نظر آئیں، دو فوجی جوان مکمل وردی کے ساتھ رائفل لئے ہوئے آمنے سامنے کھڑے ہوئے تھے۔ دونوں اس قدر ساکن اور صامت تھے کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ انسان کی مورتیں ہیں۔ بتایا گیا کہ یہ مورتیں یا اسٹیچو نہیں ہیں بلکہ زندہ فوجی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ لینن کے مقبرے کے دروازہ پر ۲ گھنٹہ مسلح فوجی جوان رہتے ہیں۔ وہ ذرا بھی ہلے بغیر کھڑے رہتے ہیں۔ جوں کہ آدمی اس طرح زیادہ دیر تک رہ نہیں سکتا، اس لئے ہر ایک گھنٹہ پر ان کی ڈیوٹی بدلتی رہتی ہے۔ جیسے ہی ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page