Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

گھنٹہ پورا ہوتا ہے ، دوسرے دو فوجی جو ان خاص انداز میں چلتے ہوئے آتے ہیں اور ان کی جگہ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ روس میں لینن کو جو غیر معمولی عظمت حاصل ہے ، یہ اس کا ایک مظاہرہ ہے۔ اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ مردہ انسان کے علامتی ڈھانچہ کی حفاظت پر اتنے زبردست پہرے لگے ہوئے ہیں ، مگر دنیا میں وہ انسان کہیں نظر نہیں آتا جس نے اپنے زندہ وجود کو نفس اور شیطان سے بچانے کے لئے اپنے اوپر پہرہ بٹھا رکھا ہو۔ حالاں کہ یہ دوسرا پہرہ " مفت " میں حاصل ہوتا ہے۔ آپ اللہ سے دعا کیجئے اور اللہ کے فرشتے آپ کی پہرے داری کے لئے فوراً آپ کے پاس آجائیں گے۔ ماسکو میں دنیا کا سب سے بڑا سرکس ہے۔ آج اس کا مخصوص شو تھا۔ میرے نہ چاہتے ہوئے بھی میرے میزبان نے مجھ کو لے جاکر وہاں بٹھا دیا۔ بادل ناخواستہ وہاں جاکر بیٹھ گیا ۔ اس کی عمارت سے لے کر ہر چیز تک غیر معمولی تھی۔ حد درجہ تربیت یافتہ قسم کے آدمی ، گھوڑے ، اونٹ ، بندر ، کتے بار بار آکر طرح طرح کے تماشے دکھاتے رہے۔ ہزاروں تماشائی محظوظ ہو کر تالیاں بجارہے تھے۔ مگر مجھے ان چیزوں کا کوئی ذوق نہیں۔ میں بے رغبت بیٹھا ہوا کبھی آنکھ کھولتا اور کبھی آنکھ بند کرتا۔ تاہم اس کا ایک " آئٹم " بڑا عجیب تھا۔ درمیان میں کھلے ہوئے اسٹیج پر ایک بہت بڑا جالی دار پنجرہ کھڑا کر دیا گیا۔ اس کے بعد پندرہ بڑے بڑے شیر اس کے اندر داخل کئے گئے۔ ایک تنہا آدمی کالا سوٹ پہنے ہوئے اس کے اندر موجود تھا۔ اس کے ہاتھ میں تقریباً نہم فٹ لمبی چھڑی تھی جس کی سفیدی بتارہی تھی کہ وہ لوہے کی ہے۔ تمام شیر اس آدمی کی چھڑی کے اشاروں پر حرکت کرنے لگے۔ جس طرح ہندوستان میں ایک مداری بندر کو تربیت دے کر اس سے طرح طرح کے تماشے کراتا ہے ، اسی طرح یہ آدمی پندرہ شیروں کے درمیان کھڑا ہو ان سے عمل کروارہا تھا۔ حاضرین سانس روکے ہوئے اس حیرت ناک " شو " کو دیکھتے رہے۔ شیر کبھی کبھی آدمی کی چھڑی پر غرّاتے اور دانت اور پنجہ نکالتے ، مگر اس کے باوجود وہ مجبور مخلوق کی طرح اس کے " احکام " کی پابندی کرتے رہے۔ یہ شو اتنا عجیب تھا کہ جب میں اس کو سوچتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے میں نے کوئی خواب دیکھا ہو۔ سرکس کا شو دیکھنے کے بعد ہم لوگ ہوٹل واپس آئے تو گھڑی میں دس بج چکے تھے۔ شام کو ۱۰ بجے ہندوستان میں رات کا وقت ہوتا ہے۔ مگر یہاں ابھی فضا میں اجالا تھا اور مغرب کا وقت ہو رہا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page