ایک سفر
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ غالباً یہ بھی ایک وجہ ہے جس کی بنا پر شہر میں ہر جگہ صفائی نظر آئی۔ اسی طرح ماسکو میں کئی چیزیں میرے ذوق کے اعتبار سے بہت عمدہ تھیں، وہاں سڑکوں پر بے شمار گاڑیاں ہر وقت دوڑتی ہیں، مگر مجھے ایک بار بھی ہارن کی آواز سنائی نہیں دی۔ ایک بار بھی لاؤڈ اسپیکر کا شور سننے پر مجبور ہونا پڑا۔ سائرن کی آوازیں بھی وہاں نہیں تھیں۔ پھیری کرنے والوں اور خوانچہ والوں کے شور سے پورا شہر بالکل خالی تھا۔ شہر کے کسی حصہ میں مجھے وہ منظر دکھائی نہیں دیا جس کو ہندوستان کے شہروں میں جگی جھونپڑی کہا جاتا ہے جس کو آپ دہلی اور دوسرے بڑے شہروں میں ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ایسی جھوپڑیاں بھی کہیں پائی جاتی ہوں مگر مجھے آتے جاتے ہوئے وہ دکھائی نہیں دیں۔ مجھے خود تو یہاں ٹیکسی لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ مگر ایک سیاح نے بتایا کہ ایک غیر ملکی جب یہاں ٹیکسی پر سوار ہوتا ہے تو ٹیکسی والا اس سے ڈالر کا تقاضا کرتا ہے، وہ روبل لینا پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح ہر جگہ روبل کے مقابلہ میں ڈالر زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کے مقابلہ میں سوویت یونین کی اقتصادی حالت کیا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ روبل سے وہ صرف روسی مصنوعات خرید سکتے ہیں جو کوالٹی میں اعلیٰ نہیں ہوتیں ۔ جب کہ ڈالر کے ذریعہ ہر قسم کی اعلیٰ چیزیں خریدی جاسکتی ہیں۔ ہوٹل کا مغربی حصہ کھلا ہوا تھا۔ شیشوں کے اُس پار باہر کی دنیا صاف دکھائی دے رہی تھی۔ دیوار سے لگے ہوئے چوڑے شیشے میرے اور شہر کے درمیان مادی اعتبار سے حائل تھے لیکن نگاہ شفاف شیشوں کو پار کر کے دور تک ماسکو کا منظر دیکھ سکتی تھی۔ اگر اللہ تعالی نے تمام مادے ایسے بنائے ہوتے جن سے روشنی پار نہ کر سکے تو ایسا مشاہدہ نا ممکن ہوتا۔ مگر اللہ نے کثیف مادوں کے ساتھ شیشہ جیسی چیزیں پیدا فرمائیں جن سے روشنی گزر سکتی ہے اور اس بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ہم شیشہ کے اُس پار کے منظر کو دیکھ سکیں۔ دنیا میں اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ اس دنیا کی تخلیق منصوبہ بند انداز میں ہوئی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ دنیا کے وہ لوگ جنہوں نے کائنات کی اس منصوبہ بند نوعیت کو سب سے زیادہ کھولا، وہی یہ ثابت کرنے میں مشغول ہیں کہ دنیا کی تشکیل میں منصوبہ کا کوئی دخل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader