Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ، صرف اس لئے کہ اگر وہ اس میں منصوبہ کو مان لیں تو فوراً منصو بہ ساز کو ماننا پڑے گا ، اور ان کا مزاج کسی منصوبہ ساز کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ مزاجی اعتبار سے آدمی اگر کسی بات کو ماننا نہ چاہتا ہو تو دلیل اس کو منوانے کے لئے کافی نہیں ہو سکتی، خواہ کتنے ہی زیادہ طاقت ور دلائل کے ساتھ اس کو ثابت کر دیا گیا ہو۔ خواہ کتنے ہی زیادہ حقائق اس کی تصدیق کرنے کے لئے موجود ہوں۔ حال میں سوویت روس کے اندر جو تبدیلیاں ہوئی ہیں وہ بے حد سبق آموز ہیں۔ روس میں ۱۹۱۷ میں کیونسٹ انقلاب آیا۔ دوسری عالمی جنگ میں کیونسٹ روس کو یہ موقع ملا کہ وہ بہت بڑے رقبہ کو اپنے اندر شامل کرلے۔ اس موضوع پر کچھ لوگوں سے میری گفتگو ہوئی۔ میں نے جو کچھ کہا، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت روس کے لئے امریکہ سب سے بڑا نظریاتی اور فوجی دشمن تھا۔ سوویت روس کے حکمرانوں نے اپنی ساری توجہ سب سے زیادہ دو چیزوں پر لگا دی۔ ایک ، تمام اشاعتی ذرائع کو استعمال کر کے یہ ثابت کرنا کہ امریکہ کا سرمایہ دارانہ نظام سب سے برا نظام ہے اور روس کا اشتراکی نظام سب سے بہتر نظام (9/764) دوسری طرف روس نے اپنے بہترین سائنسی دماغوں کو جنگی اہمیت کی چیزوں کی ریسرچ پر لگا دیا۔ ۱۹۴۹ میں سوویت روس نے اپنے پہلے نیو کلیئر ہتھیار کا تجربہ کیا۔ اس طرح اُس نے اس افسانہ کا خاتمہ کر دیا کہ امریکہ کا واحد ملک ہے جو نیوکلیئر ہتھیار رکھتا ہے (73/9)۔ اس کے بعد روس نے اکتوبر ۱۹۵۷ سے اسپتنک (مصنوعی سیارہ) کا سلسلہ شروع کیا۔ اس نے انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسے مصنوعی سیارے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیجے جو زمین کے گرد گھومتے تھے۔ یہاں تک کہ اس کے بارہ میں لکھا گیا کہ سوویت روس نے تاریخ میں پہلی بار خلائی دور شروع کیا : Soviet Union ............. inaugurated the Space Age (IX/500). سوویت روس اپنی چالیس سالہ کوششوں سے امریکہ کے بعد دوسری سب سے بڑی طاقت (سپر پاور ) بن گیا۔ مگر روس کو یہ کامیابی ایک بے حد مہنگی قیمت پر ملی۔ جنگی دیو بننے کے لئے اس کو اپنے وسائل کی اتنی زیادہ مقدار صرف ایک محاذ پر لگانی پڑی کہ دوسرے اقتصادی شعبوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page