ایک سفر
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے بتایا کہ سری لنکا ریڈیو میں مسلم سیکشن کے نام سے ایک مستقل شعبہ ہے۔ اس کے تحت ریڈیو سیلون پر روزانہ دو گھنٹہ کے لئے اسلامی پروگرام ہوتے ہیں۔ میں خود ہر جمعہ کو ریڈیو میں اسلامی تعلیمات کے بارے میں تقریر کرتا ہوں۔ ہمارے یہاں کثرت سے مسلم اسکول ہیں۔ مسلم معاملات کے لئے باقاعدہ ’’قاضی‘‘ مقر ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان آزاد مسلم لینڈ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس قسم کی خبریں بالکل بے بنیاد ہیں۔ آزادو لینڈ کا مطالبہ تامل لوگوں کا ہے نہ کہ مسلمانوں کا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان شمالی ہند میں اسلام سلاطین کے ذریعہ آیا۔ وہاں جو ہندو مسلم کش مکش ہے وہ اسی تاریخی بیک گراؤنڈ کی وجہ سے ہے۔ اس کے برعکس سری لنکا میں اسلام تاجروں کے ذریعہ پہنچا۔ اس لئے وہاں کی تاریخ مختلف ہے اور اسی بنا پر وہاں کے دونوں فرقوں میں کوئی کش مکش بھی نہیں۔ طرابلس میں ایک افریقی خاتون بھی آئی ہوئی تھی۔ ان کا نام ڈاکٹر زینب سعید کبیر ہے۔ وہ بیرو یونیورسٹی (Bayero University) کی سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں پروفیسر ہیں۔ یہ یونیورسٹی کانو (نائیجیریا) میں واقع ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میں انگریزی الرسالہ منگاتی ہوں اور اس کی مستقل قاری ہوں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ہم انگریزی الرسالہ کے مضامین کو کانو (Kano) کے پرچوں میں دوبارہ چھپواتے ہیں تاکہ وہ عوام تک پہنچ سکیں ۔ ان میں سے دو انگریزی زبان کے پرچے یہ ہیں : 1. The Pen Weekly 2. The Sunday Triumph Weekly اس کے علاوہ وہ انگریزی الرسالہ کے مضامین کا مقامی زبان (Hausa) میں ترجمہ کرتی ہیں اور ان کو مقامی ہو سز بان کے پرچوں میں چھپواتی ہیں۔ مثلاً : 1. Al-Kalam Bi-weekly 2. Al-Fijr Weekly ایک صاحب کناڈا سے آئے تھے۔ انھوں نے کچھ لٹریچر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کناڈا میں سرکاری سطح پر ایک تحریک چلائی جا رہی ہے جس کو وہ لوگ ملٹی کلچرلزم (Multiculturalism) کہتے ہیں۔ یہ اسی قومی یکتا کے لئے ہے جس کو ہندوستان میں نیشنل انٹیگریشن (National integration)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader