Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اعتبار سے وہ ایک بونی قوم بن گیا۔ روس میں خوراک اور استعمال کی اشیا کی فراہمی ہولناک حد تک کم ہوگئی ۔ اس کے فوجی گودام خطرناک فوجی ہتھیاروں سے بھرے ہوئے تھے مگر اس کے پاس اشیاے خوراک اور عام استعمال کی چیزوں سے خالی تھے۔ اب حکمرانوں کے لئے دوصورت تھی۔ ایک یہ کہ عوام کی بر بادی کے کھنڈر پر وہ بدستور اپنا سیاسی تخت بچھائے رہیں۔ کیوں کہ جو کچھ مصیبت تھی وہ عوام پر پڑتی ، خود ان کا اپنا مسئلہ ہر اعتبار سے حل شدہ تھا۔ دوسری صورت یہ تھی کہ وہ ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک انقلابی فیصلہ کریں ، خواہ اس انقلابی فیصلہ کے نتیجہ میں انھیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ۔ سوویت روس کے موجودہ وزیر اعظم نے اسی دوسرے راستہ کو اپنے لئے اختیار کیا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو لندن کے انگریزی اخبار سنڈے ٹائمز (۱۰ جون ۱۹۹۰) نے اپنے اداریہ میں کہی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ تاریخ کے تیز دھارے میں ایک خطرہ ہٹتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے ۔ سرد جنگ ختم ہو رہی ہے اور یہ بڑی حد تک مغرب کی فتح کے ہم معنی ہے: In the sweep of history, as one threat recedes, another replaces it. The cold war is ending, largely in victory for the west. تاہم اس دنیا میں نہ کوئی ہار آخری ہار ہے اور نہ کوئی جیت آخری جیت ۔ اگر سوویت روس نے مغرب کے مقابلہ میں اپنی عارضی ”پسپاتی" کو "وقفہ تعمیر کے طور پر استعمال کیا تو عین ممکن ہے کہ وہ ترقی کا نیا سفر شروع کر دے اور کسی نئی صورت میں اپنے لئے سپر پاور کا مقام دوبارہ حاصل کرلے۔ سوویت یونین ۱۵ جمہوریتوں پر مشتمل ہے۔ وہ دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کے پاس بہترین جغرافیہ ہے۔ اس کے پاس انسانی قوت بھی موجود ہے ۔ مگر ۷۲ سالہ انقلابی عمل کے باوجود وہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں سے پیچھے ہو گیا۔ اس کا واحد سبب مارکسزم ہے۔ مارکسی نظریہ کے تحت یہاں کے تمام زرعی اور تجارتی ذرائع بحير افراد کے ہاتھ سے چھین کر حکومتی انتظام میں دے دئے گئے ۔ اس مصنوعی انتظام نے سوویت سماج میں مقابلہ کا عمل ختم کر دیا۔ مقابلہ کی حالت کسی سماج میں ہمیشہ اس وقت قائم ہوتی ہے جب کہ ان کو یہ احساس ہو کہ وہ صرف اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page