Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا جاتا ہے۔ مگر مجھے کناڈا کی اصطلاح، ہندوستان کی اصطلاح سے زیادہ پسند آئی۔ ہندوستان کی اصطلاح میں بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ مختلف گروہوں کے درمیان یک جہتی کو کلچرل یکسانیت کے ذریعہ حاصل کرنا مقصود ہے۔ جب کہ کناڈا کی اصطلاح واضح طور پر کلچرل تعددیت کو تسلیم کرتے ہوئے سماج کے اندر ہم آہنگی لانا چاہتی ہے۔ جس طرح ہندوستان میں مختلف تہذیبی گروہ ہیں، اسی طرح کناڈا (اور دوسرے ملکوں) میں بھی مختلف تہذیبی گروہ ہیں۔ اس "اختلاف" کو "اتحاد" میں تبدیل کرنے کا راز یہ نہیں ہے کہ خود اختلاف کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی جائے۔ اس کا راز صرف ایک ہے، وہ یہ کہ اختلاف کو بطور واقعہ تسلیم کیا جائے اور اسی کے ساتھ لوگوں کے اندر یہ مزاج پیدا کیا جائے کہ وہ باہمی طور پر روواداری اور احترام کے ساتھ رہ سکیں۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ پاکستانی ہیں مگر آجکل یورپ کی ایک یونیورسٹی میں کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ کا الرسالہ پڑھتا ہوں۔ آپ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے مکئی دور کو ماڈل قرار دیتے ہیں۔ اس سے مجھے اتفاق نہیں۔ کیوں کہ مکی دور کا مسلمان مظلومیت کی حالت میں تھا۔ اس کا کوئی قانونی اور سیاسی حق نہیں تھا۔ جب کہ ہندوستانی مسلمانوں کی یہ پوزیشن نہیں ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ وہاں دستور اور قانون کا نظام ہے جو مسلمانوں کے لئے یکساں شہری حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ مکی دور کو ہم اپنے لئے ماڈل سمجھتے ہیں۔ مگر اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ بھی مظلوم تھے اور ہم بھی مظلوم ہیں۔ ہندوستانی مسلمان اور مکہ کے مسلمانوں میں جو مشابہت ہے وہ مرحلہ دعوت کے اعتبار سے ہے نہ کہ مرحلہ مظلومی کے اعتبار سے۔ مکہ میرے نزدیک دارِ دعوت تھا۔ وہاں مسلمان داعی کی حیثیت میں تھے اور اہل مکہ مدعو کی حیثیت میں۔ اسی طرح ہندوستان میں بھی مسلمان داعی کی حیثیت رکھتے ہیں اور بقیہ اہل ملک ان کے لئے مدعو کا درجہ رکھتے ہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ ہندوستانی مسلمانوں کو یک طرفہ طور پر صبر و اعراض کی پالیسی اختیار کرنا چاہئے تو اس سے مراد مظلومانہ اخلاق نہیں ہوتا بلکہ داعیانہ اخلاق ہوتا ہے۔ کیوں کہ داعی کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ مدعو کی زیادتیوں سے اعراض کرتے ہوئے اس کو اپنی دعوت کا محنا طلب بنائے۔ اس وضاحت کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔ شیخ محمد عبدہ (۱۹۰۵ - ۱۸۴۹) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فرانس گئے۔ وہاں انھوں نے چند سال قیام کیا۔ جب وہ اپنے وطن مصر واپس آئے تو ان سے تاثرات پوچھے گئے۔ انھوں نے کہا کہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page