United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
تو لوگ منتشر نظر آرہے تھے۔ اذان ہوتے ہی تمام لوگ باقاعدہ صف کی صورت میں جمع ہو گئے۔ اس طرح صف بندی کے ساتھ انھوں نے سنتیں پڑھیں۔ خطبہ کے بعد جب جماعت کھڑی ہوئی تو ہر آدمی اپنی اپنی جگہ کھڑا ہو گیا اور کسی انتشار کے بغیر اپنے آپ صفیں قائم ہوگئیں۔ صف بندی کا یہ طریقہ مجھے پسند آیا۔ دونوں جمعہ میں ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی صاحب (پیدائش ۱۹۳۳) نے انگریزی میں خطبہ دیا۔ یہاں جمعہ کی امامت اُنھیں سے متعلق ہے۔ مزاج اور علمی لیاقت دونوں اعتبار سے وہ اس عہدہ کے لئے نہایت موزوں ہیں۔ پہلے خطبہ میں انھوں نے آخرت کی جواب دہی کے موضوع پر تقریر کی۔ دوسرے جمعہ کے خطبہ میں ان کی تقریر کا موضوع توحید تھا۔ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان کے نزدیک سب سے زیادہ قابلِ لحاظ چیز صرف اللہ ہے: The ultimate concern of a Muslim is Allah. صفّی قریشی صاحب نہایت ذہین اور اسی کے ساتھ نہایت سنجیدہ آدمی ہیں۔ ان سے گفتگو کرنا میرے جیسے آدمی کے لئے ایک نہایت خوش گوار تجربہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ نہ زیادہ بولتے اور نہ غیر ضروری بات کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو ہمیشہ منطقی حدود کی پابند ہوتی ہے۔ اور ایسے آدمی ہمیشہ بہت کم پائے جاتے ہیں۔ صفّی قریشی صاحب نے ایک ملاقات میں ایک انگریزی کتاب کا تذکرہ کیا۔ انھوں کہا کہ میں اس کتاب کو پڑھ کر بہت متاثر ہوا، اور اس کتاب کے کئی نسخے خرید کر میں نے مختلف لوگوں کو بطور تحفہ دیا : Islam and the Destiny of Man, by Gai Eaton George Allen & Unwin, London 1985, pp-242 میں نے اس کتاب سے دلچسپی ظاہر کی تو انھوں نے اس کا ایک نسخہ مجھے بھی دے دیا۔ گائی ایٹن ایک انگریز ہیں۔ وہ برٹش ڈپلومیٹک سروس میں تھے۔ اس سلسلہ میں وہ دوسرے ملکوں کے علاوہ مصر اور ہندوستان میں بھی رہے ہیں۔ ٹی ایس ایسٹ (T.S. Eliot) کی فرمائش پر انھوں نے ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کا موضوع یہ تھا: Eastern religions and their influence upon Western Thinkers.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader