United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کتاب کے مطالعے کے دوران وہ اسلام سے متاثر ہوئے۔ یہاں تک کہ ۱۹۵۱ میں انھوں نے مصر میں اسلام قبول کر لیا۔ اس کتاب کو میں نے دیکھا۔ میں اس کے تمام مندرجات سے اتفاق نہیں کر سکتا۔ تا ہم کتاب میں ایک نیا پن ہے اور وہ قابل مطالعہ ہے۔ مصنف کے نزدیک ، اسلام کا خلاصہ دو چیزیں ہیں : حق اور رحمت (Truth and Mercy) تقویٰ کی تشریح انھوں نے ان الفاظ میں کی ہے : ...the awe-struck consciousness of God as the supreme Reality (p. 202) ۲ دسمبر کی صبح کو ایک صاحب کے یہاں ناشتہ پر کئی آدمی جمع تھے۔ ایک صاحب نے خلیج کے مسئلہ کے بارہ میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ میں میری وہی رائے ہے جو عام طور پر علما کی رائے ہے۔ علماء کی رائے نہایت تفصیل کے ساتھ آچکی ہے۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم لوگ تذکیر ی باتوں پر گفتگو کریں جن کے بارہ میں بہت کم گفت گو کی جاتی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ ابھی ہم لوگوں نے ایک کھانا ختم کیا ہے۔ کھانے کے بعد کے لئے ہمیں یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ الحمد لله الذى اطعمنا وسقانی وجعلنی من المسلمین ( اس اللہ کا شکر اور تعریف ہے جس نے مجھے کھانا کھلایا اور جس نے مجھے پانی پلایا اور جس نے مجھے مسلمانوں میں سے بنایا ) اس دعا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اس کے الفاظ کو یاد کرلے اور کھانے کے بعد اسے اپنی زبان سے دہرادے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعا اپنے مفہوم کے اعتبار سے مطلوب ہے نہ کہ محض اپنے الفاظ کے اعتبار سے۔ آپ اگر کسی سے کہیں کہ میرا فلاں ٹیلی فون نمبر ہے، تم اس نمبر پر مجھے کال کر لینا ، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ وہ اس گنتی کو یاد کر کے اسے اپنی زبان سے دہراتا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ٹیلی فون کے اوپر اس نمبر کو ڈائل کرکے آپ سے رابطہ قائم کرے ۔ یہی دعا کا معاملہ ہے۔ آپ کو چاہئے کہ جب آپ دعا کے یہ الفاظ پڑھیں تو آپ کا ذہن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader