United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے بارہ میں اس غلط فہمی کی ذمہ داری تمام تر نا اہل مسلم رہنماؤں پر ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے سب سے زیادہ اہمیت اپنے قومی مسائل کو دی۔ چنانچہ جو قومیں انھیں ان کے قومی حوصلوں میں رکاوٹ نظر آئیں ، وہ ان کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوگئے ۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام اینٹی امریکن ازم ، یا اینٹی ویسٹرن ازم کے ہم معنی بن گیا۔ اگر یہ رہنما دوسرے انسانوں کی نجات آخرت کے لئے تڑپتے تو وہ دوسرے انسانوں کے سامنے واللہ يدعو الى دار السلام (یونس ۲۵) کا پیغام لے کر کھڑے ہوتے۔ یہ چیز انھیں دوسری قوموں کا خیر خواہ بناتی۔ دوسری قومیں ان کے لئے محبت کا موضوع بن جاتیں۔ اور پھر لوگوں کو نظر آتا کہ اسلام ہمارا موافق مذہب ہے نہ کہ ہمارا مخالف مذہب۔ یہ بلاشبہ اسلام کے حق میں سب سے بڑا نقصان ہے ، اور اسلام کو یہ نقصان اس کے دشمنوں نے نہیں پہنچایا بلکہ اسلام کے نادان دوستوں نے اسلام کو یہ سب سے بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ کے شہر پلین فیلڈ (Plainfield) سے ایک میگزین نکلتا ہے۔ اس کا نام اسلامک ہورائزن (Islamic Horizons) ہے۔ اس کا شمارہ جولائی ۔ اگست ۱۹۹۰ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس کے صفحہ ۳۹ پر " انڈین مسلم ریلیف کمیٹی" کا اشتہار تھا۔ اس میں اپیل کی گئی تھی کہ فلاں پتہ پر اپنے عطیات (donations) روانہ کریں۔ اس اشتہار میں یہ الفاظ درج تھے کہ چوں کہ ہندوستان کے مسلمان کہتے ہیں کہ صرف اللہ ہمارا رب ہے ، اس لئے بے رحمانہ اور وحشیانہ ظلم ان پر ٹوٹ پڑا ہے ، مکمل گرہن کی مانند : Because Muslims in India say, “Allah is our Lord," ruthless and brutal oppression has come upon them like a full eclipse. یہ الفاظ نہ صرف واقعہ کے خلاف ہیں بلکہ وہ قرآن وحدیث کی نفی کے ہم معنی ہیں ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد ۲۰۰ ملین بتائی جاتی ہے۔ یہ تعداد دور اول کے صحابہ و تابعین کی مجموعی تعداد سے بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر واقعۃ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کو صرف اس لئے وحشیانہ طور پر ستایا جائے کہ وہ اللہ کو اپنا رب کہتے ہیں تو نا ممکن ہے کہ کوئی ستانے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader