Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

والا ان کو ستانے میں کامیاب ہو۔ ایسی صورت میں یقیناً اللہ کی غیرت جوش میں آئے گی اور پھر ظالموں کو زیر کر دیا جائے گا اور حق کی خاطر مظلوم ہو جانے والوں کو غلبہ عطا ہو گا۔ کیسے بے خبر ہیں وہ لوگ جو مخلوق کے ظلم کو جانیں مگر وہ خالق کے انصاف کو نہ جانیں۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو انسان کی طاقت کو جانیں مگر وہ خداوند ذوالجلال کی طاقت سے بے خبر بنے ہوئے ہوں۔ صغیر اسلم صاحب کی یہاں کپڑے کی ایک بڑی دکان (اسٹور) ہے۔ اس میں کپڑے کو رکھنے کے لئے انھیں خاص طرح کی الماریوں کی ضرورت تھی۔ اس سلسلہ میں ایک بڑھئی (Bobbie) ان کی دکان میں کام کر رہا تھا۔ ۲۹ نومبر کی شام کو میں ان کے اسٹور میں گیا۔ میں نے بڑھئی کو کام کرتے ہوئے دیکھا تو بے ساختہ میری زبان سے نکلا ؛ امریکی بڑھئی ہونا ایک ایڈوانٹیج ہے۔ ہر قسم کی تیار شدہ لکڑی ، ہر قسم کا عمدہ لوہے کا سامان ، ان کو کاٹنے اور جوڑنے کے لئے ہر قسم کی دستی مشین۔ اسکریوگن (screw gun) وغیرہ بڑھئی کے پاس موجود تھیں۔ وہ ان کے ذریعہ اس طرح فینسی الماریاں بنا رہا تھا جیسے کہ یہ کوئی خشک کام نہ ہو بلکہ ایک تفریحی عمل ہو۔ ترقی یافتہ ملکوں میں شراب اور جنسی آزادی جیسی خرابیاں بہت افسوسناک ہیں۔ مگر ٹکنیک کے اعتبار سے ان ملکوں میں اور ہندوستان جیسے ملکوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مقابلہ میں ہم لوگ ابھی پتھر کے دور میں رہ رہے ہیں۔ ہندوستان میں بے شمار تحریکیں ہیں جو تخریب کے کارنامے انجام دے رہی ہیں۔ مگر کوئی ایک بھی ایسی تحریک نہیں جو حقیقی معنوں میں تعمیری مقاصد کے لئے سرگرم ہو ، جو ملک کو آگے لے جانے کی کوشش کرے ۔ تحریکوں کے ہجوم میں تحریک کے فقدان کی یہ کیسی عجیب مثال ہے جو ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔ یہ ایک جدید طرز کا اسٹور تھا۔ یہاں مینز پر نہایت شاندار چھپے ہوئے بہت سے کیٹلاگ رکھے ہوئے تھے۔ ان میں ملبوس مردوں اور عورتوں کی رنگین تصویروں کے ذریعہ کپڑوں کی نمائش کی گئی تھی۔ ایک صفحہ پر کپڑوں کی نمائش کرتے ہوئے یہ الفاظ درج تھے ــــــــ سنسنی خیز، تمام نگاہیں تمہارے اوپر :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page