United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
عام لوگ پرکشش کپڑے پہن کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ لیڈروں کا طبقہ بھی یہی کرتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ دوسرے لوگ خوشنما کپڑوں کے ذریعہ اپنے آپ کو دوسروں کی نظر میں قابلِ توجہ بناتے ہیں اور لیڈر لوگ خوشنما تقریروں کے ذریعہ۔ مردوں اور عورتوں کے ایک مشترک اجتماع میں خطاب کا موقع ملا۔ خطاب کے بعد کچھ سوالات سامنے۔ ایک خاتون کی طرف سے ایک تحریری سوال آیا، اس کا خلاصہ یہ تھا : جب کسی کے برے سلوک سے دل کو سخت رنج پہنچتا ہے تو اس شخص کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ میں نے سوچا کہ اس سوال کا جواب تو قرآن وحدیث میں انتہائی واضح ہے۔ قرآن وحدیث میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ ایسے مواقع پر معافی اور درگزر سے کام لو، تم اگر بندوں سے درگزر کرو تو خدا قیامت کے دن تم سے درگزر کا معاملہ فرمائے گا۔ ان واضح ہدایات کے باوجود کیوں ایک دین دار اور تعلیم یافتہ خاتون ایسا سوال پوچھ رہی ہیں۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ زمانہ کے نااہل لیڈروں پر ہے۔ ان لیڈروں نے موجودہ زمانہ میں جو سب سے بڑی دھوم مچائی وہ غیر اقوام کے "برے سلوک“ پر فریاد و احتجاج کا مظاہرہ تھا۔ اسی قسم کی سطحی تقریروں اور تحریروں پر انھوں نے پوری قوم کو اٹھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن وحدیث کی مذکورہ تعلیم پوری قوم کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی۔ مسلمانوں کو صرف یہ سکھایا گیا کہ تھیں اشتعال انگیزمی پر مشتمل ہونا ہے ۔ رنج کا تجربہ ہونے پر تم کو شدت کے ساتھ اس کے خلاف رد عمل کا اظہار کرنا ہے ۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ قوم کے افراد قرآن کی ان تعلیمات کی اہمیت کو سمجھیں جن میں عفو و درگزر اور صبر و اعراض کی تلقین کی گئی ہے۔ روزنامہ آرچ کاؤنٹی رجسٹر (۳۰ نومبر ۱۹۹۰) کے پہلے صفحہ پر یہ سنسنی خیز خبر تھی ۔ صدام حسین کو کویت سے نکل جانے کے لئے صرف ۴۷ دن :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader