Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

United Nations High Commissioner for Refugees

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے تقریباً متفقہ طور پر یہ ریزولیوشن پاس کیا ہے کہ عراق کے صدر صدام حسین ۱۵ جنوری ۱۹۹۱ تک بلا شرط کویت کا علاقہ خالی کر دیں، ورنہ امریکہ کو حق ہو گا کہ وہ ان کے خلاف فوجی کارروائی کرے۔ اس خبر کو میں نے پڑھا تو میں نے سوچا کہ یہی معاملہ ہر انسان کا ہے، حتی کہ خود مذکورہ الٹی میٹم دینے والوں کا بھی۔ ہر انسان جو اس دنیا میں اپنی زندگی بسر رہا ہے، اس کو خدا کی طرف سے قطعی آگاہی دے دی گئی ہے کہ تمہارے لئے صرف ۴۷ دن کا موقع ہے۔ یا تو تم اس مدت میں اپنی سرکشی چھوڑ دو، ورنہ تم کو خدا کی دنیا چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد تمہارے لئے بربادی کے اندھیروں میں بھٹکنے کے سوا اور کوئی راستہ نہ ہوگا۔ لوگ دوسروں کے خلاف الٹی میٹم دینے میں مشغول ہیں، خود اپنے خلاف الٹی میٹم کی کسی کو خبر نہیں۔ امریکہ میں "پیپر ردی والا" جیسی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی۔ کیونکہ یہاں اخباروں کو ردی میں بیچنے کا کوئی رواج نہیں۔ یہاں اخبارات کا واحد استعمال یہ ہے کہ پڑھنے کے بعد انھیں کوڑے میں ڈال دیا جائے ۔ جب کہ ہندوستان میں آدمی اخبارات کو ردی میں بیچ کر ان کی تقریباً نصف لاگت واپس حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے باوجود امریکہ میں اخبارات اور میگزین نہایت عام ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی قیمتیں بہت کم ہوتی ہیں۔ یہاں اخبار والے صرف یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے اخبار کو پڑھیں ۔ کیوں کہ ان کی قیمت تو انھیں ان کے مشتہرین ادا کر چکے ہوتے ہیں۔ یہاں میں روزانہ اخبار پڑھتا تھا۔ مگر پوری مدت میں یہاں کے اخبارات میں ہندوستان کی کوئی خبر پڑھنے کو نہیں ملی۔ سنگاپور جیسے چھوٹے ملکوں کی خبریں تھیں۔ مگر ہندوستان کی کوئی خبر نہیں۔ البتہ ہندوستان میں کوئی بڑا فساد ہو جائے تو اس کی خبر ضرور یہاں کے اخباروں میں چھپتی ہے۔ اس طرح کی خبریں یہاں کے لوگوں کو یہ تسکین فراہم کرتی ہیں کہ صرف ہمارا سماج مہذب سماج ہے۔ بقیہ دنیا میں وحشت و بربریت کے سوا اور کچھ نہیں، اس اعتبار سے دیکھئے تو ہندوستان کی انتہا پسند تحریکیں صرف ملک دشمنی کی خدمت انجام دے رہی ہیں۔ کیوں کہ وہ ایسی خبریں تخلیق کرنے میں مشغول ہیں جن کا دوسری قوموں کو نہایت شدت کے ساتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page