Urdu book · سفرنامہ: غیر ملکی اسفار (حصہ دوم)

ایک سفر

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

رسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انھوں نے الرسالہ کے بارے میں اپنا تاثر ثبت یا جس کا ایک حصہ یہ تھا : لیبیا کی سرحد پر چاڈ (Chad) ملک واقع ہے۔ یہاں مسلمان تقریباً ۸۵ فی صد کی تعداد میں آباد ہیں۔ یہاں کی آبادیوں میں اسلام بہت تیزی سے پھیلا ہے : افریقہ کے دوسرے علاقوں کی طرح ، چاڈ میں بھی مسیحی مبلغوں نے مسلمانوں کو مسیحیت میں داخل کرنے کی بہت کوششیں کیں۔ مگر وہ مسلم آبادی کو متاثر کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے : لیبیا اور چاڈ کے درمیان ایک صحرائی پٹی ہے جس کے نیچے معدنی ذخائر بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ اس کو اوز روپٹی (Aouzou Strip) کہا جاتا ہے۔ پندرہ سال پہلے لیبیا نے اس کے اندر اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ اس کا دعویٰ تھا کہ یہ لیبیا کا حصہ ہے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں میں جنگ ہوئی۔ اس میں بے شمار جانی و مالی نقصان ہوا۔ ۱۹۸۹ میں لیبیا نے اس جنگ کے خاتمہ کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ اس اس پر راضی ہو گیا ہے کہ ہیگ کی انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس جو فیصلہ کرے، وہ اس کو مان لے گا۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی صورت حال ہے جو ہندوستان کے نام نہاد لیڈروں نے اجودھیا کی بابری مسجد کے معاملہ میں اختیار کی استبداداً انھوں نے ریلی اور جلوس کے مظاہرے کئے ، مارچ اور بائیکاٹ کی دھمکیاں دیں۔ لاؤڈ اسپیکر پر نعرے لگائے کہ ہم بابری مسجد لے کر رہیں گے اب جب کہ اس احمقانہ سیاست کے نتیجہ میں ملک کے فرقہ پرست ہندو پر ست ہندواپنی تمام انتہا پسندی اور متشدد انہ ارادوں کے ساتھ جاگ اٹھے تو اب وہ مسلمانوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ مسجدوں میں اس کے لئے دعا کرو۔ اور یہ کہ کورٹ جو فیصلہ دے وہ ہمیں منظور ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کے بارہ میں فارسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page