United Nations High Commissioner for Refugees
Urdu book, p. 210
By Maulana Wahiduddin Khan
انتظار ہے۔ ۲۹ نومبر کو دوپہر کا وقت تھا۔ چاروں طرف دھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے یہاں کی گھڑی میں دیکھا تو وہ ساڑھے گیارہ بجے کا وقت بتا رہی تھی۔ اس کے بعد میری نظر اپنے ہاتھ کی گھڑی پر گئی تو اس میں ایک بجے کا وقت تھا۔ ایک لمحہ کے لئے یہ فرق عجیب لگا۔ پھر خیال آیا کہ میری گھڑی میں دہلی کا وقت ہے۔ اور کیلی فورنیا اور دہلی کے وقت میں ساڑھے دس گھنٹہ کا فرق پایا جاتا ہے۔ اس وقت جب کہ میں کیلی فورنیا میں ساڑھے گیارہ بجے دن کی روشنی میں بیٹھا ہوا ہوں، دہلی کے کے لوگ ایک بجے رات کے اندھیرے میں اپنے گھروں کے اندر سو رہے ہوں گے۔ کیلی فورنیا میں آج ۲۹ نومبر کی تاریخ ہے، مگر دہلی کا انسان اس وقت نومبر کی ۳۰ تاریخ میں داخل ہو چکا ہے۔ کیلی فورنیا میں اس وقت تمام سرگرمیاں اپنے شباب پر ہیں ، جب کہ دہلی میں تمام انسانی سرگرمیاں رات کے سناٹے میں روپوش ہو چکی ہیں۔ زمین کی سطح پر رات اور دن کا یہ فرق سورج کے سامنے زمین کی گردش سے پیدا ہوتا ہے۔ خلائے بسیط میں زمین کی یہ گردش اتنی حیران کن ہے کہ اس کے بارے میں سوچ کر جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور آدمی بے اختیار ہو کر سجدہ میں گر پڑے۔ انور حسن صاحب (۴۵ سال) ایک امریکی کمپنی (GHG) میں کام کرتے ہیں۔ اتوار کے دن وہ رضا کارانہ طور پر ایک اسلامک سنٹر میں "سیکوریٹی" کی خدمات انجام دیتے ہیں۔ کیونکہ اتوار کے دن اس سنٹر میں کافی مسلمان آتے ہیں۔ انھوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے جو مسلمان یہاں آتے ہیں ، وہ امریکیوں کے درمیان تو بہت با اصول طور پر رہتے ہیں۔ "سر" کہے بغیر ان سے بات نہیں کرتے۔ مگر جب وہ اسلامک سنٹر میں آتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ کسی جنگل میں آگئے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دیجئے۔ انھوں نے کہا کہ مثال کے طور پر جب وہ امریکی دفتروں میں جاتے ہیں تو وہاں وہ گاڑیوں کے قوانین کی سختی کے ساتھ پابندی کرتے ہیں۔ مگر اسلامک سنٹر میں آتے ہی ان کا انداز بدل جاتا ہے۔ پچھلے سڈے کو میں سنٹر کے گیٹ پر ڈیوٹی دے رہا تھا۔ ایک سلمان اپنی مرسیڈیز پر آئے اور نکلنے والے دروازہ (exit)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader